جاپان کے وسطی حصے میں آج اتوار کے روز 5.7 شدت کے زلزلے نے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے طاقتور تھے کہ ان کی شدت دور دور تک محسوس کی گئی۔
زلزلے کے مرکز کے قریب واقع علاقوں میں رہائشی عمارتیں اور سڑکیں بری طرح لرز اٹھیں، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے فوری طور پر گھروں اور دفاتر سے باہر کھلے مقامات کی طرف بھاگ نکلے۔
مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث متعدد رہائشی عمارتوں اور تجارتی مراکز کے شیشے ٹوٹ گئے۔ سڑکوں پر موجود گاڑیوں کے سوار بھی زلزلے کے جھٹکوں کی شدت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
زلزلے کے اثرات سے ناگویا اسٹیشن پر ٹرینوں کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر دیکھی گئی، جس کے باعث مسافروں کو اسٹیشنوں پر طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا اور خبر رساں اداروں پر وائرل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں سڑکوں اور اپارٹمنٹس کو شدید جھٹکوں کے ساتھ ہلتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں عمارتوں کے اندر موجود سامان کو گرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے تاحال زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ حکام نے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے پیشِ نظر متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر مستحکم عمارتوں سے دور رہیں۔
جاپان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں زلزلے کثرت سے آتے ہیں، جس کی وجہ سے وہاں کی تعمیرات کو زلزلہ پروف بنانے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود 5.7 شدت کا زلزلہ کافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
ناگویا اسٹیشن پر ٹرینوں کی بحالی کے لیے تکنیکی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹرینوں کے نظام کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے حفاظتی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
زلزلے کے مرکز اور گہرائی کے حوالے سے ماہرین مزید ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں صرف 5.7 شدت کی تصدیق کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے بھی شروع کیا جائے گا۔ فی الحال ترجیح زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کی بحالی ہے۔





اپنی رائے دیں