وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے آٹوموٹو انڈسٹری پالیسی کا حتمی مسودہ سرکاری طور پر پیش کر دیا ہے۔
یہ اہم اعلان ہفتے کے روز اسلام آباد میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی اس موقع پر ہارون اختر خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں موجود تھے۔
ہارون اختر خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات سے آگاہ کیا کہ ملک کے وزیراعظم نے اس پالیسی کے حتمی مسودے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
نئی آٹوموٹو پالیسی کے اہم اور بنیادی مقاصد میں صنعت کاری کو فروغ دینا، ملک کے اندر پیداوار بڑھانا اور مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری شامل ہے۔
حکام کے مطابق اس پالیسی کا ایک اور بڑا مقصد سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے حفاظتی معیارات کو بین الاقوامی سطح کے مطابق بہتر بنانا ہے۔
پالیسی کے تحت ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں یعنی ای وی کی ترویج اور ان کے استعمال کو ترجیحی بنیادوں پر حوصلہ افزائی فراہم کی جائے گی۔
موجودہ حکومت کا یہ قدم ملک کی آٹوموٹو صنعت میں نئی سمت متعین کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران دونوں وفاقی عہدیداروں نے پالیسی کے خدوخال اور اس کے متوقع مثبت اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
متعلقہ محکموں کے حکام کی طویل محنت کے بعد اس پالیسی کا حتمی مسودہ تیار کیا گیا ہے جسے اب عملی جامہ پہنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس پالیسی کے نفاذ سے ملک میں گاڑیوں کی صنعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
آٹو موبائل سیکٹر کے ماہرین اور وابگان کی جانب سے اس نئی پالیسی کے مسودے پر مختلف زاویوں سے تبصرہ کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ اس پالیسی سے طویل عرصے میں ملکی معیشت کو استحکام ملے گا اور نئی سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں گی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے جوابات بھی دیے گئے اور پالیسی کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی گئی۔





اپنی رائے دیں