ملک بھر میں بچوں کو موذی مرض پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے سب نیشنل انسدادِ پولیو مہم کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جس کے دوران لاکھوں بچوں کو ویکسین کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاری مہم کے ابتدائی پانچ روز کے دوران دو کروڑ چونتیس لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں۔
یہ اہم انسدادِ پولیو مہم ملک بھر کے ستانوے منتخب اضلاع میں منعقد کی جا رہی ہے جہاں پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلا رہے ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ اس مہم کا چھٹا روز آج جاری ہے اور پولیو ٹیمیں فیلڈ میں مکمل طور پر سرگرم عمل ہیں۔
حکام کے مطابق پولیو کے خاتمے کی یہ خصوصی سب نیشنل مہم آٹھ نومبر تک بلاتعطل جاری رکھنے کا شیڈول طے کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی بچہ اس سے محروم نہ رہے۔
موجودہ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً چوبیس ملین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے حصول کے لیے تمام متعلقہ محکمے کوشاں ہیں۔
پولیو کے اس موذی مرض سے نبردآزما ہونے کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں انتظامیہ اور صحت کے حکام کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ مہم کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔
والدین کی جانب سے بھی پولیو ٹیموں کو بھرپور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے جو اس مہم کی کامیابی میں ایک اہم عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔
صحت کے اداروں کا ماننا ہے کہ بار بار ہونے والی یہ سب نیشنل مہمات بچوں میں پولیو وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرنے اور ملک کو اس بیماری سے مکمل پاک کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام والدین اپنی قومی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔
پولیو ورکرز کی سکیورٹی اور سہولت کے لیے بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنے فرائضِ منصبی سر انجام دے سکیں۔
اس مہم کے دوران فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ورکرز کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے جو سخت موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود گھر گھر پہنچ رہے ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق مہم کے اختتام تک مقررہ ہدف کے قریب ترین پہنچنے کی توقع ہے کیونکہ آخری دنوں میں ویکسینیشن کی رفتار کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔
پولیو کے اس مرض کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی اشتراک سے کام کر رہی ہیں تاکہ ایک مؤثر حکمت عملی کے تحت اس وائرس کا ہمیشہ کے لیے قلع قمع کیا جا سکے۔
شہریوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو بھی اس حوالے سے آگاہی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اس قومی مہم میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔





اپنی رائے دیں