نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان حکومت اور جماعت اسلامی کے مابین جاری مذاکراتی عمل پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
رابطے کے دوران فریقین نے اب تک ہونے والی پیش رفت، مذاکراتی سب کمیٹی کے اجلاسوں اور عوام کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے کیا جانے والا احتجاج مکمل طور پر پرامن اور جمہوری دائرے کے اندر رہا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس احتجاج اور مذاکراتی عمل کے نتیجے میں عوامی ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے متعدد اہم اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کا معاملہ بھی حکومت کے زیر غور ہے اور اس کو حل کرنے کے لیے مسلسل بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی سب کمیٹی اپنے اجلاس مکمل کر چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں کی جانب سے تشکیل دی گئی ٹیکنیکل کمیٹی نے بھی اپنا جائزہ اور تمام متعلقہ امور پر مذاکرات کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ اب تمام ابتدائی اور تکنیکی عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں کمی اور دیگر عوامی ریلیف اقدامات کے عملی اجرا کا مرحلہ ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کی سب کمیٹی کے مابین مذاکرات کا فائنل راؤنڈ 10 نومبر کو منعقد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
یہ اہم مذاکراتی اجلاس نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی میزبانی میں اسلام آباد میں واقع وزارت خارجہ کی عمارت میں منعقد کیا جائے گا۔
10 نومبر کو ہونے والے حتمی اجلاس کے بعد حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور عوامی ریلیف کے حوالے سے اہم فیصلوں کے باقاعدہ اعلان کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔





اپنی رائے دیں