ضلع کرم میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسکردو میں ایک خاندان کے چار افراد کو قتل کرنے والے مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
گزشتہ ہفتے گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں نامعلوم افراد نے میاں، بیوی اور ان کے دو کم سن بچوں کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور واردات کے بعد فرار ہو گئے تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ مقتول شوہر کا تعلق اسکردو جبکہ ان کی اہلیہ کا تعلق پاراچنار سے تھا۔
اسکردو پولیس نے اس دلخراش واقعے کے حوالے سے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کو آگاہ کیا تھا۔
آئی جی پی خیبرپختونخوا نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آر پی او کوہاٹ شاکر حسین داوڑ اور ڈی پی او کرم ڈاکٹر سعد آفریدی کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں۔
ڈی پی او کرم ڈاکٹر سعد آفریدی کی ہدایت پر پولیس کی جانب سے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تاکہ ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔
اس خصوصی ٹیم کی قیادت ایس پی لوئر کرم نصیر علی خان اور فلک نواز بنگش کر رہے تھے۔
ٹیم کے دیگر ارکان میں ڈی ایس پی سرکل عنایت خان، ایس ایچ او تھانہ سمیر افتخار احمد اور اے ایس ایچ او ارشاد حسین شامل تھے۔
اس کے علاوہ کارروائی کے لیے تشکیل دی گئی اس خصوصی ٹیم میں پولیس کی بھاری نفری، ایلیٹ فورس اور لیڈی پولیس کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق تشکیل کردہ اس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لوئر کرم کے علاقے سمیر حسن علی کلے میں چھاپہ مارا۔
اس چھاپے کے دوران قتل کی اس واردات میں ملوث مرکزی ملزمان سید رجب حسین اور سید حلیم حسین کو حراست میں لے لیا گیا۔
گرفتار کیے گئے دونوں ملزمان کے والد کا نام بادشاہ حسین ہے اور ان کا تعلق حسن علی کلے سمیر سے ہے۔
کرم پولیس نے گرفتار ملزمان سے پیشہ ورانہ انداز میں تفتیش کی اور اس دوران اہم معلومات حاصل کیں۔
پولیس نے ایک مؤثر حکمت عملی کے ذریعے چار افراد کے اس اندھے قتل کے تمام شواہد اور معمہ کو کامیابی سے حل کر لیا۔
تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد کرم پولیس نے گرفتار مرکزی ملزمان کو مزید تفتیش اور کارروائی کے لیے اسکردو پولیس کے حوالے کر دیا۔
کرم پولیس نے اس اندوہناک واقعے کے غم زدہ لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
پولیس حکام نے لواحقین کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔





اپنی رائے دیں