مواد پر جائیں
جمعہ، 6 نومبر 2026 26 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
انڈر 19 ایشیا کپ: عثمان خان کی شاندار سنچری، پاکستان کی متحدہ عرب امارات کے خلاف فتحترک پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دیپشاور میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحقایبٹ آباد اور دریا خان میں ٹریفک حادثات، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمیعالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 2020 کے بعد بڑی کمی کا امکانمارٹن روز بیلنسیاگا کی نئی کریٹو ڈائریکٹر مقررہالی وڈ اداکارہ کماری جانسن 50 برس کی عمر میں انتقال کر گئیںپاکستان اور ترکیہ کا تقریباً دو دہائیوں بعد آف شور تیل و گیس کی تلاش شروع کرنے کا فیصلہشہباز شریف کا گورننس ماڈل مستقبل میں پی ایچ ڈی کا موضوع بنے گا: حذیفہ رحمانیورپ میں پروازوں کے بعد میڈیا ہاؤسز کو بھی بم سے اڑانے کی دھمکیاںبھارت کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کی دعوت موصولیورپ بھر کے ٹی وی چینلز کو بم کی دھمکیاں، نشریات عارضی طور پر معطلمکاؤ: سابق قانون ساز آؤ کام سان کو قومی سلامتی کے مقدمے میں ساڑھے 12 سال قیدسال 2026 تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال بننے کا امکان، یورپی یونین کی رپورٹپاکستان اور تاجکستان کی مشترکہ فوجی مشقیں ‘دوستی-III’ چیراٹ میں اختتام پذیروائٹ ہاؤس نے پیٹ ہیگسیٹھ اور مارکو روبیو کے مستعفی ہونے کی خبروں کی تردید کر دیبی آئی ایس پی کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھا جائے، سینیٹر روبینہ خالدکرسٹیانو رونالڈو کی انٹرنیشنل فٹ بال سے ریٹائرمنٹ، پرتگال فٹ بال فیڈریشن کا خراجِ تحسینمحکمہ ریلوے کا جنوری تک 14 مال گاڑیاں چلانے کا فیصلہسپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے 8 اصول طے کر دیے
دنیا

یورپ میں پروازوں کے بعد میڈیا ہاؤسز کو بھی بم سے اڑانے کی دھمکیاں

آئرلینڈ اور بلغاریہ سمیت کئی ممالک کے میڈیا دفاتر کو ای میل کے ذریعے دھمکیاں ملنے پر انخلا کر دیا گیا، حکام کی جانب سے تحقیقات جاری۔

یورپ بھر میں گزشتہ چند دنوں سے جاری مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کا سلسلہ اب میڈیا اداروں تک پھیل گیا ہے۔ جمعہ کے روز آئرلینڈ اور بلغاریہ سمیت متعدد یورپی ممالک کے اہم میڈیا ہاؤسز کو ای میل کے ذریعے بم دھماکوں کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد متعلقہ دفاتر کو فوری طور پر خالی کروا لیا گیا۔

آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای (RTE) اور دیگر میڈیا گروپوں کے دفاتر کو دھمکی ملنے کے بعد سکیورٹی حکام نے عمارتوں کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کیا۔ حکام کے مطابق یہ دھمکیاں 'میخائل آندروپوف' نامی شخص کی جانب سے بھیجی گئیں، تاہم ابتدائی تحقیقات میں انہیں ایک 'ہوکس' یا جھوٹی اطلاع قرار دیا گیا ہے۔

آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ معاشرتی نظام میں خلل ڈالنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے اس طرح کی غیر روایتی سرگرمیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے پرسکون رہنے اور صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی اپیل کی، جبکہ ڈبلن میں میڈیا دفاتر نے کچھ دیر بعد اپنی نشریات دوبارہ شروع کر دیں۔

اس سے قبل جمعرات کے روز یورپ بھر میں درجنوں مسافر پروازوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی گئی تھیں، جنہیں بعد ازاں بے بنیاد قرار دیا گیا۔ ان واقعات کے دوران کئی پروازوں کو ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی جبکہ کچھ طیاروں کو لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں اپنی منزل تک پہنچایا گیا۔

ہنگری کے وزیر دفاع رومولسز روزن سینڈی نے بتایا کہ نیٹو نے ہنگری اور رومانیہ کی سرحد کے قریب فضائی گشت کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس سلسلے میں مغربی دفاعی اتحاد براہ راست متحرک ہوا ہے، جبکہ ڈنمارک اور چیک ریپبلک میں بھی پروازوں کو دھمکیاں ملنے کی اطلاعات ہیں۔

سپین کے وزیر خارجہ جوزے البارس نے ان واقعات کو 'ہائبرڈ جارحیت' اور 'نفسیاتی جنگ' کا حصہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی وقت میں یورپ بھر میں اس طرح کے واقعات کا تسلسل محض اتفاق نہیں ہو سکتا اور یورپ کو مزید ایسے چیلنجز کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق اٹلی میں بھی ایئرپورٹ حکام کو دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئیں جن میں ایک ممنوعہ روسی گروپ کا نام استعمال کیا گیا، تاہم اس گروپ سے وابستہ افراد نے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام ای میلز کے ذرائع کا سراغ لگانے کے لیے بین الاقوامی تعاون حاصل کر رہے ہیں۔

یورپ میں حالیہ عرصے کے دوران بجلی کے گرڈ اسٹیشنوں اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ حکام ان تمام واقعات کو ایک وسیع تر منظم مہم کا حصہ سمجھ رہے ہیں، جس کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم کسی بھی ملک نے ابھی تک باضابطہ طور پر کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے۔

تمام تر دھمکیوں کے باوجود اب تک کسی بھی جگہ کوئی دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا اور تمام مسافر طیارے اور میڈیا دفاتر محفوظ ہیں۔ سکیورٹی ادارے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور متاثرہ ممالک میں فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں