یورپ بھر میں گزشتہ چند دنوں سے جاری مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کا سلسلہ اب میڈیا اداروں تک پھیل گیا ہے۔ جمعہ کے روز آئرلینڈ اور بلغاریہ سمیت متعدد یورپی ممالک کے اہم میڈیا ہاؤسز کو ای میل کے ذریعے بم دھماکوں کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد متعلقہ دفاتر کو فوری طور پر خالی کروا لیا گیا۔
آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای (RTE) اور دیگر میڈیا گروپوں کے دفاتر کو دھمکی ملنے کے بعد سکیورٹی حکام نے عمارتوں کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کیا۔ حکام کے مطابق یہ دھمکیاں 'میخائل آندروپوف' نامی شخص کی جانب سے بھیجی گئیں، تاہم ابتدائی تحقیقات میں انہیں ایک 'ہوکس' یا جھوٹی اطلاع قرار دیا گیا ہے۔
آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ معاشرتی نظام میں خلل ڈالنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے اس طرح کی غیر روایتی سرگرمیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے پرسکون رہنے اور صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی اپیل کی، جبکہ ڈبلن میں میڈیا دفاتر نے کچھ دیر بعد اپنی نشریات دوبارہ شروع کر دیں۔
اس سے قبل جمعرات کے روز یورپ بھر میں درجنوں مسافر پروازوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی گئی تھیں، جنہیں بعد ازاں بے بنیاد قرار دیا گیا۔ ان واقعات کے دوران کئی پروازوں کو ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی جبکہ کچھ طیاروں کو لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں اپنی منزل تک پہنچایا گیا۔
ہنگری کے وزیر دفاع رومولسز روزن سینڈی نے بتایا کہ نیٹو نے ہنگری اور رومانیہ کی سرحد کے قریب فضائی گشت کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس سلسلے میں مغربی دفاعی اتحاد براہ راست متحرک ہوا ہے، جبکہ ڈنمارک اور چیک ریپبلک میں بھی پروازوں کو دھمکیاں ملنے کی اطلاعات ہیں۔
سپین کے وزیر خارجہ جوزے البارس نے ان واقعات کو 'ہائبرڈ جارحیت' اور 'نفسیاتی جنگ' کا حصہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی وقت میں یورپ بھر میں اس طرح کے واقعات کا تسلسل محض اتفاق نہیں ہو سکتا اور یورپ کو مزید ایسے چیلنجز کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق اٹلی میں بھی ایئرپورٹ حکام کو دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئیں جن میں ایک ممنوعہ روسی گروپ کا نام استعمال کیا گیا، تاہم اس گروپ سے وابستہ افراد نے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام ای میلز کے ذرائع کا سراغ لگانے کے لیے بین الاقوامی تعاون حاصل کر رہے ہیں۔
یورپ میں حالیہ عرصے کے دوران بجلی کے گرڈ اسٹیشنوں اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ حکام ان تمام واقعات کو ایک وسیع تر منظم مہم کا حصہ سمجھ رہے ہیں، جس کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم کسی بھی ملک نے ابھی تک باضابطہ طور پر کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے۔
تمام تر دھمکیوں کے باوجود اب تک کسی بھی جگہ کوئی دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا اور تمام مسافر طیارے اور میڈیا دفاتر محفوظ ہیں۔ سکیورٹی ادارے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور متاثرہ ممالک میں فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔

اپنی رائے دیں