سپریم کورٹ آف پاکستان نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک ملازم کی جانب سے جبری ریٹائرمنٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ ادارے کی جانب سے دی گئی جبری ریٹائرمنٹ کی سزا کو قانون کے مطابق درست قرار دیتے ہوئے برقرار رکھا ہے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے اس کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔ فیصلے میں اہم قانونی نکات کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کی نجی زندگی کا کردار بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ فوجداری مقدمے میں بریت محکمانہ کارروائی اور سزا سے بریت کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اگر کسی ملازم کے خلاف محکمانہ انکوائری میں جرم ثابت ہو جائے تو اس پر نظم و ضبط کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ گھر کی چار دیواری کے اندر خواتین پر تشدد کو کسی بھی طور پر نجی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست اور قانون کی نظر میں خواتین کی عزت اور وقار کا تحفظ ایک بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کی حیثیت سے عورت کا ہر رشتہ قابلِ احترام ہے۔ لہٰذا کسی بھی عورت پر گھریلو تشدد کو نجی یا ذاتی معاملہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جو سرکاری ملازم خواتین پر تشدد کا مرتکب ہوتا ہے، وہ نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ اس سے اس سرکاری ادارے کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوتی ہے جس میں وہ کام کر رہا ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایک سرکاری ملازم کا کردار صرف اس کے دفتری فرائض کی انجام دہی تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کی نجی زندگی کا سلوک بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ دفتر سے باہر کیا گیا کوئی بھی جرم ملازم کی سرکاری ملازمت اور اہلیت پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
کیس کے پس منظر کے مطابق اپیل کنندہ جواد عباسی انٹیلی جنس بیورو میں بطور باورچی ملازمت کر رہا تھا۔ اس کے خلاف اپنی ہی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنانے اور زندہ جلانے کی کوشش پر محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔
عدالتی ریکارڈ اور انکوائری رپورٹ کے مطابق ملزم نے سال 2022ء میں اپنی بیوی پر تشدد کے دوران اسے آگ لگائی اور اسے جان سے مارنے کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے کے بعد ادارے نے اس کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کی تھیں۔
آئی بی کی جانب سے قائم کی گئی محکمانہ انکوائری کے دوران کل 13 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔ ان بیانات اور ثبوتوں کی روشنی میں انکوائری کمیٹی نے ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے جبری ریٹائرمنٹ کی سزا تجویز کی تھی۔
ملزم جواد عباسی نے اس محکمانہ سزا کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ فوجداری کیس میں کارروائی کی بنا پر اسے نوکری سے ریٹائر نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم سپریم کورٹ نے ان کے تمام دلائل کو رد کرتے ہوئے محکمانہ فیصلے کو بحال رکھا اور واضح کر دیا کہ خواتین کے خلاف تشدد جیسے سنگین اقدامات پر سرکاری ملازمین کو استثنیٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔



اپنی رائے دیں