امریکی وفاقی عدالت نے تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے دو سابق سینئر حکام کے خلاف فوجداری مقدمہ خارج کر دیا ہے۔ ان سابق اہلکاروں پر کانگریس کے سامنے سابق صدر جو بائڈن کے بیٹے ہنٹر بائڈن کے کیس کے حوالے سے غلط بیانی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
پیر کے روز امریکی مجسٹریٹ جج ضیا فاروقی نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ انصاف کی ہدایات کے تحت کام کرنے والے استغاثہ کے پاس کیس کو آگے بڑھانے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔ انہوں نے قرار دیا کہ یہ تفتیش جلد بازی میں کی گئی، اسے سیاسی رنگ دیا گیا اور یہ سنگین نوعیت کی غلطیوں کا شکار رہی۔
جج ضیا فاروقی نے عدالت میں ریمارکس دیے کہ اس صورتحال کو سیاسی انتقام یا اداروں کے غلط استعمال کے علاوہ کسی اور نام سے نہیں پکارا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آنکھیں بند کر کے حالات سے غافل نہیں رہ سکتے اور نہ ہی اس بات کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔
مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق سابق حکام نکی فلورس اور بریڈلی بیناویڈس پر الزام تھا کہ انہوں نے سنہ دو ہزار تئیس میں کانگریس کو ایک لیپ ٹاپ کے معاملے پر گمراہ کیا تھا۔ محکمہ انصاف کے مطابق یہ لیپ ٹاپ سنہ دو ہزار انیس میں ڈی لا ویئر کی ایک دکان پر جمع کروایا گیا تھا۔
ایک تفتیشی ایف بی آئی ایجنٹ نے عدالت میں بیان دیا کہ نکی فلورس اور بریڈلی بیناویڈس کے خلاف تحقیقات کا آغاز گزشتہ سال جولائی میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔
اس مقدمے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کی ان پرانی شکایات کو تازہ کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بائڈن خاندان سے جڑی اہم اور نقصان دہ معلومات کو سنہ دو ہزار بیس کے صدارتی انتخابات کے دوران چھپایا گیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ محکمہ انصاف کے پاس اب بھی گرینڈ جیوری کے ذریعے سابق اہلکاروں کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا موقع موجود ہے، تاہم اس ابتدائی فیصلے سے استغاثہ کے مقدمے کو شدید دھچکا لگا ہے۔
گزشتہ ہفتے ہونے والی ابتدائی سماعت کے دوران جج نے نشاندہی کی تھی کہ محکمہ انصاف نے قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر کام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ استغاثہ نے عدالت کی پیشگی منظوری کے بغیر مقدمے میں ایک اضافی دفعہ کے ساتھ ترمیم شدہ شکایت داخل کی، جو انہوں نے اپنے کیریئر میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔


اپنی رائے دیں