مواد پر جائیں
بدھ، 28 اکتوبر 2026 17 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:38
بریکنگ
امریکا کی ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاری، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیاکراچی: عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی سفر کی کوشش ناکام، دو بھائی گرفتارملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، چھوٹے کاروباری طبقے میں تشویشعالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ کی قیمت 115 ڈالر سے تجاوز کر گئیمصر میں آوارہ کتوں کے حملے میں پندرہ ماہ کی بچی جاں بحقصادق سنجرانی کے ہاں اکیس سال بعد بیٹے کی پیدائش، مبارکبادیںترکیہ سپر لیگ: گالاتاسرائے اور فینرباہچے میچ کے بعد کھلاڑی آپس میں الجھ پڑےلاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دیآئی سی سی کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر حارث رؤف پر جرمانہایڈیشنل چیف سیکریٹری افتخار علی سہو سے پنشنرز کے نمائندوں کی ملاقاتبیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیالاہور کے علاقے غازی آباد میں سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے بہو جاں بحقکراچی میں موسم بدستور گرم و خشک، درجہ حرارت اٹھتیس ڈگری تک جانے کا امکانفیسکو سرکلز کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے بلوں کی درستگی کی اجازتاسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ‘ون پیشنٹ ون آئی ڈی’ ڈیجیٹل نظام کا نفاذتحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اہم قرارداد منظورپاکستان تحریک انصاف کا 28 ویں آئینی ترمیم کی مشروط حمایت کا فیصلہدبئی میں گاڑی کی منفرد نمبر پلیٹ CC44 67 لاکھ 20 ہزار درہم میں نیلاممشہور بھارتی ہدایت کار اور ‘سی آئی ڈی’ کے خالق بی پی سنگھ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئےخیبر پختونخوا کی روایات میں گالم گلوچ کی کوئی گنجائش نہیں: شیر افضل مروت
دیگر خبریں

مصر میں آوارہ کتوں کے حملے میں پندرہ ماہ کی بچی جاں بحق

قاہرہ کے علاقے گارڈنز سٹی میں گھر کے باہر کھیلتی بچی کو آوارہ کتوں نے نشانہ بنایا۔

مصر میں آوارہ کتوں کے حملے میں پندرہ ماہ کی بچی جاں بحق

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ایک رہائشی علاقے میں انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں آوارہ کتوں کے ایک بے لگام ٹولے نے حملہ کر کے پندرہ ماہ کی معصوم بچی کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ یہ افسوسناک حادثہ گارڈنز سٹی نامی محلے میں پیش آیا جس نے مقامی آبادی کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

حادثے کی شکار ہونے والی کم سن بچی کی شناخت سلسبیل کے نام سے کی گئی ہے جو اپنے گھر کی دہلیز کے باہر کھیل رہی تھی۔ اچانک آوارہ کتوں کے غول نے ننھی بچی پر دھاوا بول دیا اور اس پر شدید حملے کیے جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی۔

بچی کی چیخ و پکار سن کر اس کی والدہ فوراً گھر سے باہر دوڑیں اور اپنی لختِ جگر کو بچانے کی کوشش کی۔ والدہ نے انتہائی عجلت میں زخمی بچی کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی۔

بدقسمتی سے معصوم سلسبیل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں ہی دم توڑ گئی اور طبی عملہ اس کی جان بچانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس دلخراش واقعے کی خبر پھیلتے ہی علاقے کے مکینوں اور عام شہریوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی سانحے سے بچا جا سکے۔ واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے قاہرہ کی عدالت نے اس پورے معاملے کا فوری طور پر نوٹس لے لیا ہے۔

عدالت نے اس دلخراش واقعے کی شفاف اور ہمہ جہت تحقیقات کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ پولیس اور متعلقہ تفتیشی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حادثے سے متعلق تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔

تحقیقاتی عمل کے دوران حکام نے بچی کی والدہ کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا ہے تاکہ واقعے کے وقت کی درست تفصیلات معلوم کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ پولیس کو اس علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرنے اور اس کی جانچ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پولیس حکام نے بچی کے والد محمد عثمان کو بھی تفتیش کے اگلے مرحلے میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا ہے۔ والد کو طلب کیے جانے کی ایک اہم وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مبینہ طور پر انہوں نے اپنی بیٹی کی تدفین کے لیے سرکاری اجازت نامہ حاصل نہیں کیا تھا۔

مصر میں آوارہ کتوں کے حملے اور کاٹنے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں بلکہ اس حوالے سے ماضی میں بھی تشویشناک اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں۔ وزارت صحت کے فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں ایسے حادثات کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس جنوری سے ستمبر کے درمیانی عرصے میں صرف بلیوں اور کتوں کے کاٹنے کے تقریباً بارہ لاکھ واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصر میں آوارہ جانوروں کا مسئلہ کس قدر سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔

عوامی حلقوں اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے بارہا یہ مطالبات کیے جاتے رہے ہیں کہ آوارہ کتوں کو آبادیوں سے دور رکھا جائے اور ان کی افزائشِ نسل کو کنٹرول کیا جائے۔ تاہم اس کے باوجود گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی موجودگی معصوم شہریوں بالخصوص بچوں کی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔

مصر کی عدالت کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات کے آغاز کے بعد امید کی جارہی ہے کہ ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا اور اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی موثر لائحہ عمل مرتب ہوگا۔ اس وقت پورے ملک میں اس المناک حادثے پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بچی کے والد کی جانب سے تدفین کے معاملے پر قانونی پیچیدگیاں بھی سامنے آئی ہیں جن کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں اس پورے معاملے کے تمام قانونی اور طبی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے میں مصروف عمل ہیں۔

دیگر خبریں کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں