اسلام آباد کے مرکزی سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے 'ون پیشنٹ ون آئی ڈی' ڈیجیٹل نظام کا باقاعدہ نفاذ کر دیا گیا ہے۔
اس اہم منصوبے پر سوا ارب روپے سے زائد کی لاگت آئی ہے، جس کا بنیادی مقصد مریضوں کے علاج معالجے کے عمل کو شفاف بنانا اور ان کے طبی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ طریقے سے محفوظ کرنا ہے۔
نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت مریضوں کی رجسٹریشن کے عمل کو ان کی تشخیصی رپورٹس کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے ڈاکٹروں کو مریض کا مکمل طبی ریکارڈ کمپیوٹر سکرین پر فوری طور پر دستیاب ہوگا۔
یہ منصوبہ وزارتِ صحت اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے لیے درکار سافٹ ویئر نیشنل آئی ٹی بورڈ کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔
اس ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے پمز کے پانچوں ذیلی ہسپتالوں کو آپس میں مربوط کر دیا گیا ہے، جن میں کارڈیک سینٹر، چلڈرن ہسپتال، برن سینٹر، زچہ و بچہ سینٹر اور بڑوں کا ہسپتال شامل ہیں۔
نظام کے نفاذ سے ہسپتال کے مجموعی طور پر 24 شعبوں کو ایک ہی ڈیجیٹل نیٹ ورک پر لایا گیا ہے، جن میں لیبارٹری، ایکسرے یونٹ، استقبالیہ، وارڈز، ایمرجنسی، ٹرانسپورٹ اور آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق اس ڈیجیٹل اصلاحات کے اگلے مرحلے میں ہسپتال کو مکمل طور پر پیپر لیس بنانے اور مریضوں کے لیے بارکوڈ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
اس سلسلے میں کارڈیک سینٹر کو 31 اکتوبر تک مکمل طور پر پیپر لیس کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے مریضوں کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
اس جدید نظام سے نہ صرف مریضوں کو قطاروں میں لگنے سے نجات ملے گی بلکہ ان کے علاج کے عمل میں بھی تیزی آئے گی، کیونکہ اب پرانے ریکارڈ کو تلاش کرنے میں وقت ضائع نہیں ہوگا۔
پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کا یہ عمل ہسپتال کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جس سے شہریوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔
حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی پالیسی کے تحت یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اس نظام کے نفاذ سے ہسپتال کے وسائل کے بہتر استعمال اور ادویات و طبی آلات کی فراہمی میں شفافیت لانے میں بھی مدد ملے گی، جس سے مجموعی طور پر صحت کے نظام میں بہتری آئے گی۔
مستقبل میں اس نظام کو دیگر سرکاری ہسپتالوں تک بھی پھیلانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر میں مریضوں کا ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کیا جا سکے اور علاج کے عمل کو مزید مربوط بنایا جا سکے۔




اپنی رائے دیں