مواد پر جائیں
جمعہ، 30 اکتوبر 2026 19 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 11:15
تازہ
وزیراعظم کی لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی ماسٹر پلان کے تحت توسیع کی منظوریٹرائی سیریز: انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے شکست دے دیایران کو امریکی نائب صدر کا خط موصول، تہران کا جواب دینے سے گریزکے ایم سی کے 10 ہزار ملازمین کی ڈگریاں تصدیق کروانے کا حکمبلوچستان کی باہمت خاتون کرکٹر زمر شفیع کینسر کے باوجود میدان میں ڈٹ گئیںمولانا فضل الرحمان کے بیان پر محسن نقوی کا سخت ردعمل، احترام کی گنجائش ختم ہونے کا اعلانپاکستان میں سونے کی قیمت مستحکم، چاندی کے نرخوں میں کمیپاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم: 16 ارب روپے کے انعامات جیتنے کا طریقہ کار واضحپنجاب میں جعلی ہارمونل دوا کی فروخت پر الرٹ جاریلاہور ہائیکورٹ: نیورو سرجری اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتیاں پی ایم ڈی سی ضوابط کے تابع قرارکار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزالکی مروت: دو سالہ بچہ اغوا کے بعد قتل، بوری بند لاش برآمدکراچی: بنارس موبائل مارکیٹ میں ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پرکراچی کے علاقے ڈیفنس میں شہریوں کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز، پولیس کی تحقیقات جاریکراچی: شاہ فیصل کالونی میں بھائی نے فائرنگ کر کے دو بہنوں کو قتل کر دیاخیبر پختونخوا میں تجاوزات کیخلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز، غیر قانونی تعمیرات مسماردرآمدی گندم کی آمد، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کا امکانبھارت: مائیکروسافٹ ملازم کو نوکری چھوڑنے پر 11 لاکھ کی پیشکش، انٹرنیٹ پر بحثثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے نہم جماعت سائنس گروپ کے نتائج کا اعلان کر دیابلوچستان: سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 9 دہشت گرد ہلاک
دنیا

نیپال میں تباہ کن سیلاب، گورکھا ضلع میں پورا بازار بہہ گیا

نیپال کے گورکھا ضلع میں منہ زور سیلابی ریلے نے سلیری بازار کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

نیپال میں ایک بار پھر منہ زور سیلاب نے شدید تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں گورکھا ضلع کا پورا بازار سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ ہولناک واقعہ 12 اکتوبر 2026 کو پیش آیا جب اچانک آنے والے سیلاب نے ہر چیز کو تہس نہس کر دیا۔

ملک کا یہ خطہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مسلسل قدرتی آفات بالخصوص سیلاب اور زلزلوں کی زد میں رہا ہے۔ تازہ ترین سیلابی ریلے نے متعدد اضلاع میں شدید نقصان پہنچایا ہے اور نظامِ زندگی کو بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پہاڑی تودہ گرنے کے باعث دریا کا قدرتی بہاؤ رک گیا تھا جس کے نتیجے میں انتہائی خطرناک سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس اچانک رکاوٹ کے بعد پانی کا دباؤ بڑھا اور ریلے نے نچلے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

سیلاب کی اس تباہی کے نتیجے میں گورکھا ضلع کا معروف سلیری بازار مکمل طور پر سیلابی ریلے میں بہہ گیا اور نام و نشان مٹ گیا۔ اس کے علاوہ قریبی جگت بازار میں بھی بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا۔

سیلابی ریلے نے متاثرہ علاقوں میں قائم کاروباری مراکز، دکانوں اور نجی املاک کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے۔ تجارتی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مشتعل پانی کے ریلے نے نہ صرف بازار بلکہ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی مکانات زمین بوس ہو گئے۔ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے اپنے سروں کی چھت سے محروم ہو گئے۔

تباہ کاریوں کا یہ سلسلہ یہیں نہیں روکا بلکہ سیلابی ریلے نے علاقے میں قائم دو معلق پلوں کو بھی بہا کر لے گیا۔ ان پلوں کے ٹوٹنے سے مختلف دیہات کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

اس کے علاوہ ایک مقامی آبی برقی پراجکٹ کو بھی سیلاب کے پانی کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس پراجکٹ کے متاثر ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے اور اندھیرا چھا گیا ہے۔

انتظامیہ اور ریسکیو ذرائع کے مطابق خوش قسمتی سے تاحال کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جانی نقصان نہ ہونا ایک معجزے سے کم ہے۔

متاثرہ علاقوں میں اس وقت نقصانات کا تخمینہ لگانے اور سروے کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی ٹیمیں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔

یہ تباہ کن سیلاب اس وقت آیا جب علاقے کے اکثر مکین گہری نیند میں سو رہے تھے۔ اگر بروقت احتیاطی تدابیر نہ کی جاتیں تو جانی نقصان کا خطرہ بہت زیادہ ہو سکتا تھا۔

مقامی انتظامیہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکام کو پہلے ہی موسمی حالات کی وجہ سے سیلاب آنے کا خدشہ لاحق تھا۔ اسی پیش نظر مقامی آبادی کو بروقت الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔

خطرہ محسوس کرتے ہوئے زیادہ تر افراد پہلے ہی محفوظ مقامات کی تلاش میں اونچائی والے علاقوں میں منتقل ہو چکے تھے۔ اس پیشگی انخلا کی وجہ سے ایک بڑا انسانی المیہ رونما ہونے سے بچ گیا۔

نیپال کے اس پہاڑی خطے میں حالیہ برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ شدید بارشیں اور گلیشئرز کے پگھلنے کے عمل نے سیلاب کے خطرات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

حکومتِ نیپال اور متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سڑکوں کی بحالی اور متاثرین کے لیے عارضی خیمہ بستیوں کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں