بیجنگ (شِنہوا) کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں مکمل اجلاس پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جس کا بنیادی ایجنڈا پارٹی کی جامع اور سخت خود حکمرانی کے نفاذ کو مضبوط بنانا ہے۔ اس سلسلے میں غور و خوض کے لیے ایک سنگ میل حیثیت کی حامل دستاویز بھی پیش کی گئی ہے۔
چین جب اپنے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دور میں داخل ہو رہا ہے تو یہ دو ہزار پینتیس تک سوشلسٹ جدیدیت کو بنیادی طور پر حاصل کرنے کی بنیاد رکھنے کا انتہائی اہم مرحلہ ہے۔
اس دوران سی پی سی کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن میں حکمرانی کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، عوام کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا، خود پسندی اور غفلت سے بچنا اور بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کرنا شامل ہیں۔
صرف مضبوط پارٹی قیادت اور خود حکمرانی و نظم و ضبط کے جامع اور سخت نظام سے غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ہی مرکزی قیادت کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
ان اقدامات کے ذریعے ملک کی طویل مدتی ترقی کو درست سمت میں برقرار رکھا جا سکتا ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پارٹی نے اس کوشش کو آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔
اس مقصد کے لیے پارٹی کے خود احتسابی اور نظم و ضبط کے جامع اور سخت نظام کو مضبوط بنانے کی خاطر بلند تر معیار اپنانے اور زیادہ ٹھوس اقدامات کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔
سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے اہم فیصلوں اور منصوبوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے کھوکھلے نعروں اور زبانی جمع خرچ سے مکمل طور پر گریز کرنا انتہائی ضروری ہے۔
جو کچھ بھی کہا جائے، اس پر عملی طور پر عمل بھی ہونا چاہیے تاکہ اس کے مثبت اور حقیقی نتائج سامنے آسکیں اور اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
بدعنوانی کے خلاف جاری یہ جنگ اب بھی ایک مشکل اور پیچیدہ مرحلے میں ہے، جس کے لیے زیادہ سنجیدگی، چوکسی اور پختہ عزم درکار ہے۔
یہ ایک انتہائی اہم جدوجہد ہے جس میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس کے لیے مسلسل اور غیر متزلزل دباؤ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
اس حوالے سے پیغام بالکل واضح ہے کہ پارٹی کا خود احتسابی کا عمل ایک مسلسل جدوجہد ہے جس کی کوئی حتمی منزل نہیں ہے۔
اس مسلسل عمل کا ہر مرحلہ ایک نئے آغاز کی حیثیت رکھتا ہے جس کے تحت کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ عوام کی بہتر خدمت کرنے کی اپنی صلاحیت کو مسلسل مضبوط بناتی رہے گی۔

اپنی رائے دیں