مواد پر جائیں
پیر، 26 اکتوبر 2026 15 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 10:16
بریکنگ
سرکاری اور مالیاتی اداروں کے ڈیجیٹل نظاموں پر سائبر حملوں کا خدشہمریم نواز کی انگلینڈ کے خلاف قومی کرکٹ ٹیم کی فتح پر مبارکبادبھارت: پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئیوزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی دینہ میں کھلی کچہری، عوامی مسائل سنےملک میں جمہوریت اور قانون کی صورتحال لمحہ فکریہ ہے، شیر افضل مروتدفتر خارجہ میں اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی تیاریاںلاہور فیشن ویک: تیسرے روز مشرقی و مغربی ملبوسات کا حسین امتزاجبرطانوی بینک بارکلیز کی ہزاروں ملازمین کی چھانٹی کی تیاریایف پی ایس سی کے ملتوی ٹیسٹوں کی نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیاکویت میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے جدید نظام متعارفروزگار کیلئے مقامی انڈسٹری کا فروغ انتہائی ضروری ہے، مریم نوازرواں سال جولائی سے ستمبر تک کا توشہ خانہ ریکارڈ جاریاہلیہ سنیتا آہوجا کے الزامات پر بالی ووڈ اداکار گووندا کی خاموشی ختمایف بی آر کا ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں ویڈیو کیمرے لگانے کا حکمبس ڈرائیور کے بیٹے سے ’راکنگ سٹار یش‘ بننے کا دلچسپ سفربلوچستان کے شمالی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ، قلات کا درجہ حرارت ایک ڈگری ریکارڈجنوبی افریقا کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ سے قبل اسٹیو اسمتھ کی فٹنس مشکوکلاہور میں سگریٹ کے ڈبوں میں ریت بھر کر فروخت کرنے والا نوسرباز گرفتاروزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکململک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان
سائنس و ٹیکنالوجی

برطانوی بینک بارکلیز کی ہزاروں ملازمین کی چھانٹی کی تیاری

مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام کو اپناتے ہوئے بینک نے سال کے آخر تک ملازمین کی فہرستیں بنانا شروع کر دیں۔

برطانوی بینک بارکلیز کی ہزاروں ملازمین کی چھانٹی کی تیاری

برطانیہ کے معروف نجی بینک بارکلیز نے اخراجات میں کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر بینک کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور مالیاتی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔

بینک انتظامیہ کی جانب سے اس سال کے اختتام تک ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کے لیے باقاعدہ فہرستیں تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے بینک کی عالمی افرادی قوت کا ایک نمایاں حصہ براہ راست متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بارکلیز کی جانب سے اس کٹانگ کا بنیادی سبب مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام کا بڑھتا ہوا نفاذ ہے۔ بینک کا ماننا ہے کہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ امور کی انجام دہی میں تیزی بھی آئے گی۔

اس منصوبے کے تحت بینک کی عالمی افرادی قوت کے تقریباً پانچ فیصد حصے کو کم کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر ایک ہزار کے قریب ملازمتوں کو فوری خطرات لاحق ہیں جبکہ بقیہ چار ہزار ملازمین کی چھانٹی رواں سال کے آخر تک متوقع ہے۔

متاثر ہونے والے شعبوں میں سب سے زیادہ تناسب معاون خدمات اور ڈیولپرز سے وابستہ عملے کا بتایا جا رہا ہے۔ بینک کے مطابق اس چھانٹی کا ساٹھ فیصد حصہ انہی شعبوں پر اثر انداز ہوگا جہاں خودکار نظام روایتی کاموں کی جگہ لے رہا ہے۔

بینکنگ کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی شمولیت کے باعث دنیا بھر کے مالیاتی اداروں میں افرادی قوت کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی انتظامی امور پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ ٹیکنالوجی اور ڈیٹا تجزیے سے جڑے شعبوں کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بارکلیز اکیلا ایسا مالیاتی ادارہ نہیں ہے جس نے اس نوعیت کے اقدامات کا اعلان کیا ہو۔ اس سے قبل بھی دنیا کے کئی بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں نے اخراجات محدود کرنے کے لیے عملے کی تعداد کم کرنے کی پالیسیوں پر عمل درآمد شروع کیا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران بین الاقوامی سطح پر کئی نامور اداروں نے اپنی افرادی قوت کو محدود کرنے کے منصوبے سامنے رکھے ہیں۔ مئی کے مہینے میں ایک اور بڑے برطانوی ادارے نے آئندہ چند برسوں کے دوران ہزاروں ملازمتیں ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

اسی طرح رواں سال کے اوائل میں ایک اور بڑے بین الاقوامی بینک نے بھی ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے پر غور کرنے کی اطلاعات دی تھیں۔ مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی معروف کمپنیوں کی جانب سے بھی ایسے ہی فیصلے سامنے آئے ہیں۔

عالمی سطح پر معاشی دباؤ اور کاروباری رجحانات میں تبدیلی کے پیش نظر مالیاتی ادارے اب روایتی افرادی قوت کی بجائے ڈیجیٹل حل کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اس رجحان سے بینکاری کی صنعت میں روزگار کے مواقع کی نوعیت ہمیشہ کے لیے بدلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری جانب بعض دیگر خطوں کے بینکنگ سیکٹر میں بھی ملازمین کی تعداد میں کمی کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کچھ بڑے نجی اداروں میں ملازمین کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بینکاری کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا فروغ بعض روایتی ملازمتوں کے خاتمے کا سبب ضرور بن رہا ہے تاہم اسے مکمل طور پر ہر ملازمت کے خاتمے کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اداروں کا اصرار ہے کہ یہ تبدیلیاں کارکردگی کو بہتر بنانے اور گاہکوں کو جدید ترین ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس تمام عمل کے دوران بینکنگ کے شعبے میں سکیورٹی اور ڈیٹا کے تجزیے جیسے شعبوں کی مانگ میں اضافہ جاری ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں