مواد پر جائیں
منگل، 27 اکتوبر 2026 16 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:17
بریکنگ
ملتان میں زیر تعمیر پلازا کی چھت گر گئی، مزدور ملبے تلے دب گئےپاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 1680 ارب روپے رہ گیا: اویس لغاریانسٹاگرام کا یوٹیوب کو ٹکر دینے کیلئے 90 منٹ طویل ویڈیوز کا فیچر متعارفکوئی مجرم اپنی جماعت کا بھی ہو تو رعایت نہیں ملے گی: مریم نوازبجلی صارفین کیلئے خوشخبری، 200 سے زائد یونٹس پر اضافی چارجز ختم کرنے پر کام جاریظالم کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچے گا: مریم نوازکراچی میں موچکو پولیس کی کارروائی، بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک گرفتاروالد کے خلاف سنگین الزامات پر میگھن مارکل آبدیدہ ہوگئیںسی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، انفارمیشن کوریڈور عوام کو قریب لائے گا: عطا تارڑکمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس، خود حکمرانی پر زورکشمیری آج یومِ سیاہ منا رہے ہیں، بھارتی تسلط کے 79 سال مکملراولپنڈی میں خاتون پر مبینہ تشدد، شوہر اور ساس سسر گرفتاررینالہ خورد: سہولت بازار میں دکانوں کی مبینہ تقسیم پر احتجاجکراچی کے ساحلی پانیوں میں 500 سے زائد ڈولفنز کا غیر معمولی اجتماعٹرائی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہخیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ: پی ٹی آئی میں سیاسی سرگرمیاں تیزنائیجیریا نے یوگنڈا کو شکست دے کر سب ریجنل ٹائٹل جیت لیاصائم ایوب سہ فریقی سیریز سے ریلیز، صاحبزادہ فرحان شاملامریکا میں تین سالہ فٹبالر کی مہارت پر تنازع، پولیس طلبآئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، قومی اسکواڈ کا اعلان
جرم و سزا

کراچی کے علاقے کورنگی میں گھر کے اندر فائرنگ سے بیس سالہ خاتون جاں بحق

پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے بڑی بہن کو حراست میں لے لیا۔

کراچی کے علاقے کورنگی میں گھر کے اندر فائرنگ سے بیس سالہ خاتون جاں بحق

کراچی کے صنعتی علاقے کورنگی کے سیکٹر چالیس اے گلگت کالونی میں گھریلو ناچاقی کے تنازع پر فائرنگ کا ایک افسوسناک واقع پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں بیس سالہ دوشیزہ جان کی بازی ہار گئی۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد پولیس نے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور ایک مرکزی ملزمہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق زمان ٹاؤن تھانے میں درج کروائے گئے مقدمے میں مقتولہ کے والد عابد شاہ نے اپنی بڑی بیٹی، داماد اور سابق شوہر کو نامزد کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس اندوہناک واقعے کی تمام زاویوں سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

مقدمے کے متن کے مطابق جاں بحق ہونے والی نمرہ کی شادی تقریبا تین سال قبل رفیق جاکھرانی نامی شخص سے ہوئی تھی اور یہ رشتہ مقتولہ کی بڑی بہن علینہ اور اس کے شوہر حیات جاکھرانی نے طے کروایا تھا۔ شادی کے ابتدائی ایام کے بعد نمرہ اپنے سسرال جیکب آباد چلی گئی تھی تاہم کچھ ہی عرصے بعد وہ اپنے شوہر کے ہمراہ گھگھر پھاٹک کے قریب رہائش پذیر ہو گئی تھی۔

مدعی مقدمہ نے پولیس کو بتایا کہ شادی کے بعد سے ہی مقتولہ کو گھریلو مسائل کا سامنا تھا اور اس کا شوہر اس کے ساتھ نامناسب رویہ رکھتا تھا۔ نمرہ کی جانب سے متعدد بار شکایات کی گئیں کہ شوہر کے رشتہ دار غیر موجودگی میں گھر آ کر اس پر نظر رکھتے ہیں جس پر شوہر الٹا اسی پر الزامات عائد کرتا تھا۔

والد کے مطابق ان کی بیٹی نے ان تلخ حالات اور گھریلو نااتفاقی سے تنگ آ کر شادی کے چھ سات ماہ بعد عدالت کے توسط سے اپنے شوہر سے خلع لے لی تھی۔ خلع کے قانونی عمل کے بعد سابق شوہر رفیق جاکھرانی نے نمرہ اور اس کے خاندان کو متعدد بار سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں اور وہ اس رنجش کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

مقدمے میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ بڑی بہن علینہ اور اس کے شوہر حیات جاکھرانی نے نمرہ کو دوبارہ سابق شوہر کے ساتھ صلح کرکے گھر بسانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بڑی بیٹی اور داماد نے رفیق جاکھرانی سے نمرہ کی شادی کروانے کے عوض ڈھائی لاکھ روپے کی رقم وصول کی تھی۔

خلع کے بعد مقتولہ زیادہ تر اپنے بھائی عبدالرحیم اور بڑی بہن علینہ کے گھر پر ہی مقیم رہتی تھی۔ واقعہ والے روز بھی نمرہ اپنی بہن کے گھر موجود تھی جب دوپہر کے وقت گھر والوں کو فون پر یہ اطلاع ملی کہ رفیق جاکھرانی نے علینہ کے گھر میں گھس کر فائرنگ کر دی ہے۔

اطلاع ملنے پر جب مقتولہ کے والد جناح اسپتال پہنچے تو وہاں علینہ بھی موجود تھی۔ والد کا کہنا ہے کہ جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کوئی تسلی بخش جواب دینے کے بجائے صرف اتنا بتایا کہ رفیق جاکھرانی گھر آیا تھا اور فائرنگ کر کے نمرہ کو قتل کر کے فرار ہو گیا۔

مقتولہ کے والد نے پولیس کو دیے گئے بیان میں شدید شبہ ظاہر کیا ہے کہ بڑی بہن علینہ اور اس کے شوہر حیات جاکھرانی نے نمرہ کے سابق شوہر کے ساتھ دوبارہ گھر بسانے سے انکار پر انتقامی کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نمرہ کی اس وقت علینہ کے گھر موجودگی کی اطلاع صرف گھر کے افراد کے علاوہ کسی اور کو نہیں تھی۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کی بڑی بہن علینہ کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے اس معاملے میں اہم نوعیت کی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان حیات جاکھرانی اور سابق شوہر رفیق جاکھرانی واردات کے بعد سے فرار ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جا سکے اور اس اندوہناک واقعے کے محرکات کا مکمل احاطہ کیا جا سکے۔

علاقے میں اس بہیمانہ قتل کے بعد شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مکینوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مفرور ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے ہر پہلو کو قانونی کارروائی کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں