مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:36
بریکنگ
ملک بھر میں ایل پی جی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہافغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہڈیرہ اسماعیل خان: کواڈ کاپٹر گرنے سے بچہ جاں بحق، ماں اور بھائی زخمیپاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعاتکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین کی ویکسینیشن معطل، کاؤنٹر ہٹا دیا گیاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارپھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت، موت کا خطرہ نصف سے کمایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی چیف جسٹس سے ملاقاتپاکستان نیوی کی ایتھلیٹ امتل رحمان کا اولمپکس میں شرکت کا عزمپاکستان میں ذہنی صحت کا بڑھتا ہوا بحران: سماجی رویوں میں تبدیلی ناگزیربنگلا دیشی انڈر 18 کرکٹر مہدی حسن ہردوئے کینسر کے باعث انتقال کر گئےپولیو کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ سندھصدر آصف زرداری کا جرمنی کا کامیاب دورہ مکمل، صحت کے شعبے میں تعاون پر اتفاقامریکی اور اسرائیلی انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا خدشہروس اور یوکرین کا الیوشکی میں انسانی امداد کیلئے عارضی جنگ بندی پر اتفاقاینڈرائیڈ فونز میں 2027 کی اپ ڈیٹ تاریخ: صارفین پریشان نہ ہوںستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟مصطفیٰ کمال کی ایم کیو ایم کارکنان کو ہر طرح سے تیار رہنے کی ہدایتمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: خلیجی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور آئی ایم ایف کے خدشاتفرانس میں مہنگائی اور تعلیمی اصلاحات کیخلاف مظاہرے، 70 ہزار اہلکار تعینات
دنیا

روس اور یوکرین کا الیوشکی میں انسانی امداد کیلئے عارضی جنگ بندی پر اتفاق

دونوں ممالک نے شہریوں کے محفوظ انخلا اور خوراک و ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مقامی سطح پر کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روس اور یوکرین کا الیوشکی میں انسانی امداد کیلئے عارضی جنگ بندی پر اتفاق

روس اور یوکرین نے خیرسون کے علاقے الیوشکی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے تاکہ متاثرہ شہریوں تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان پہنچایا جا سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد محصور آبادی کو محفوظ راستے فراہم کرنا اور انہیں انسانی بحران سے نکالنا ہے۔

روسی انسانی حقوق کی کمشنر یانا لانتراٹووا نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین کے کمشنر دمتری لوبینیتس کے ساتھ ان کے رابطے جاری ہیں اور دونوں فریقین طے شدہ معاہدوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ انسانی مشن کے انتظامات حتمی مراحل میں ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس مقامی جنگ بندی کا مقصد الیوشکی میں انسانی امداد کی فراہمی کو بلا تعطل ممکن بنانا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے بتایا کہ ایک آزاد میڈیا ادارہ اس پورے عمل کی نگرانی کرے گا اور انسانی مشن کے دوران ہونے والی پیش رفت کو دستاویزی شکل دی جائے گی۔

روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل والیری گیراسیموف نے اعلان کیا ہے کہ روسی فوج 27 اکتوبر کو ماسکو کے وقت کے مطابق صبح چار بجے سے الیوشکی کے محاذ پر عارضی طور پر فوجی کارروائیاں روک دے گی۔ اس دوران کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی سے گریز کیا جائے گا۔

جنگ بندی کے آغاز کی تاریخوں میں روسی اور امریکی اعلانات میں معمولی فرق موجود ہے، تاہم دونوں ممالک کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شہریوں کی جان بچانا اولین ترجیح ہے۔ عالمی برادری نے اس پیش رفت کو انسانی بنیادوں پر ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے گزشتہ ماہ الیوشکی کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا تھا۔ روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں یوکرینی گولہ باری اور ڈرون حملوں کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی جس سے عام شہریوں کی زندگی متاثر ہوئی۔

الیوشکی ضلع کے سربراہ روسلان خومینکو کے مطابق، گزشتہ کچھ عرصے کے دوران علاقے میں توپ خانے اور ڈرونز کے ذریعے متعدد حملے کیے گئے جس سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ ان حملوں کے نتیجے میں امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

اس انسانی مشن کے تحت نہ صرف خوراک اور ادویات پہنچائی جائیں گی بلکہ ان شہریوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا جو جنگی حالات کے باعث اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ یہ عمل بین الاقوامی نگرانی میں مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان جاری اس کشیدگی کے دوران انسانی بنیادوں پر ہونے والا یہ معاہدہ ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ امدادی سامان کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

روس اور یوکرین کے درمیان اس سے قبل بھی انسانی ہمدردی کے معاملات پر رابطے ہوتے رہے ہیں، تاہم الیوشکی کے لیے ہونے والا یہ حالیہ معاہدہ زمینی صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مقامی حکام نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

امدادی ٹیمیں اب اس بات کی تیاری کر رہی ہیں کہ کس طرح محفوظ راستوں سے متاثرہ لوگوں تک پہنچا جائے۔ اس مشن کی کامیابی کا انحصار جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد اور دونوں فریقین کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں پر ہے۔

الیوشکی میں انسانی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے عالمی برادری بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس عارضی وقفے سے شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی اور انہیں بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔

آنے والے دنوں میں اس انسانی مشن کے نتائج سامنے آئیں گے جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ عارضی جنگ بندی طویل مدتی امن کے لیے کوئی راستہ ہموار کر سکتی ہے یا نہیں۔ فی الحال تمام تر توجہ صرف شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے پر مرکوز ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں