وفاقی وزیر برائے توانائی و پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں فلو ویکسین کی عدم دستیابی کی اہم وجہ واضح کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے درآمد کی جانے والی فلو ویکسینز قیمتوں کے تعین میں پیچیدگیوں کے باعث تاحال مارکیٹ میں نہیں پہنچ سکی ہیں۔
مصدق ملک کے مطابق، تین مختلف فلو ویکسینز کی قیمتوں کے تعین کے عمل میں تکنیکی خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ان ویکسینز کی موجودہ درآمدی لاگت ان کی مجوزہ قیمتوں سے کافی کم ہے، جس سے قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ان تینوں فلو ویکسینز کی قیمتوں کا متعلقہ سرکاری پالیسی کے مطابق دوبارہ جائزہ لے۔ اس عمل کا مقصد عوامی مفاد کو یقینی بنانا اور غیر ضروری مہنگائی کو روکنا ہے۔
مصدق ملک نے مزید بتایا کہ صرف فلو ویکسین ہی نہیں، بلکہ 52 نئی ادویات کی مجوزہ قیمتوں میں بھی کچھ خامیاں پائی گئی ہیں۔ ان ادویات کی قیمتیں مقرر کرتے وقت مارکیٹ کے مروجہ نرخوں اور دیگر متعلقہ عوامل کو نظر انداز کیا گیا تھا، جس پر نظرثانی ضروری ہے۔
موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی فلو ویکسین کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم مارکیٹ میں اس کی عدم دستیابی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اسے فوری طور پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ادویات اور ویکسینز کی قیمتوں کا تعین کرتے وقت عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا اور ڈریپ کی مقرر کردہ پالیسیوں کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عوام کو معیاری ادویات مناسب قیمت پر دستیاب ہوں۔
ڈریپ کی جانب سے قیمتوں کے دوبارہ جائزے کے بعد حتمی سفارشات تیار کی جائیں گی۔ ان سفارشات کو منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ہی ان ادویات اور ویکسینز کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان ممکن ہو سکے گا۔
حکومت کی جانب سے اس اقدام کا مقصد دوا ساز کمپنیوں اور عوام کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ قیمتوں کا تعین شفاف ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت یا غیر ضروری اضافے سے بچا جا سکے۔
پاکستان میں ہر سال سردیوں کے موسم میں فلو اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ طبی ماہرین بھی شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ موسمی تبدیلیوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔
ڈریپ حکام اب ان تمام کیسز پر کام کر رہے ہیں جن میں قیمتوں کے تعین کے دوران غلطیاں ہوئی تھیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ نظرثانی کے عمل کے بعد جلد ہی فلو ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ بحال ہو جائے گا اور ادویات کی قیمتیں بھی مستحکم ہوں گی۔
وفاقی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ عام آدمی کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
اس معاملے پر مزید پیش رفت کا انتظار ہے، تاہم حکومتی سطح پر ہونے والی اس پیش رفت سے شہریوں میں امید پیدا ہوئی ہے کہ جلد ہی انہیں مارکیٹ میں فلو ویکسین دستیاب ہوگی۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس عمل کو جلد از جلد مکمل کریں۔
حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں پر نظرثانی کا فیصلہ ایک اہم قدم ہے جس سے نہ صرف فلو ویکسین بلکہ دیگر اہم ادویات کی قیمتوں میں بھی توازن آئے گا۔ عوام کی جانب سے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں ریلیف مل سکے۔





اپنی رائے دیں