مواد پر جائیں
پیر، 26 اکتوبر 2026 15 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:57
بریکنگ
شاداب خان کی شاندار سنچری، پاکستان نے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لیگوجرانوالہ میں ولیمے کی تقریب کو جاتے دلہا دلہن کی گاڑی پر فائرنگ، دلہن جاں بحقگولارچی: کتے کے کاٹنے سے متاثرہ 6 سالہ بچہ ویکسینیشن میں غفلت کے باعث جاں بحقنادرا شناختی کارڈ کی پرنٹنگ کے بعد کوالٹی کنٹرول کا عمل لازمی قراربرازیل میں صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ، لولا دا سلوا اور فلیویو بولسونارو میں سخت مقابلہروبسن انٹرنیشنل نے لاہور اسمارٹ سٹی پولو ان پنک ٹورنامنٹ جیت لیاقذافی اسٹیڈیم میں سہ ملکی سیریز: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا دورہکراچی انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ: مصری کھلاڑیوں کا راج، ٹائٹلز اپنے نام کر لیےکروم بکس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم تعلیمی بحران کا حل نہیں، جے یو آئیشہداء کی قربانیوں پر سیاست کرنا افسوسناک ہے، رانا سکندر حیاتبرفانی تیندوا تلاش کریں: کیا آپ کی نظر تیز ہے؟وفاق کے ساتھ ہم آہنگی خیبر پختونخوا کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے، فیصل کریم کنڈیایران کے خلاف جارحیت کا ناقابلِ تصور جواب دیں گے، باقر قالیبافگوگل میپس کی ایک عام غلطی جو سمارٹ فون کی بیٹری جلدی ختم کرتی ہےسول سروسز اکیڈمی میں جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے بلاک کا افتتاحتمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کے بغیر خطے میں امن ناممکن ہے، عباس عراقچیراولپنڈی میں مبینہ غلط انجکشن لگنے سے پانچ سالہ بچی جاں بحق، عطائی گرفتاررضا اللہ کا اپنی ہی گیند پر شاندار کیچ، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرلراولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں مبینہ غفلت سے دو بچے جاں بحققومی ویمن کرکٹ ٹیم کے لیے غیر ملکی ہیڈ کوچ کی تقرری کا فیصلہ
پاکستان

میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول اب انتہائی آسان، طریقہ کار جاری

شادی کے بعد نکاح کا باقاعدہ اندراج قانونی طور پر ضروری ہے، جس کے لیے یونین کونسل اور نادرا کی ڈیجیٹل سہولیات دستیاب ہیں۔

میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول اب انتہائی آسان، طریقہ کار جاری

پاکستان میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے جوڑوں کے لیے نکاح کا باقاعدہ اندراج کروانا نہ صرف ایک اہم قانونی تقاضا ہے بلکہ مستقبل کی مختلف ضروریات کے لیے بھی انتہائی ناگزیر ہے۔ شادی کے بعد میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول ایک لازمی عمل ہے جو جوڑے کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے دلہا یا دلہن میں سے کوئی بھی ایک متعلقہ یونین کونسل سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس عمل کے لیے کچھ بنیادی دستاویزات کی فراہمی ضروری ہے جن میں نکاح خواں کی جانب سے جاری کردہ اصل نکاح نامہ شامل ہونا لازمی ہے۔

درخواست گزار کو دلہا اور دلہن کے قومی شناختی کارڈز کی کاپیاں فراہم کرنی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں فریقین کے والد کے شناختی کارڈز اور نکاح کے وقت بطور گواہ موجود افراد کے شناختی کارڈز کی نقول بھی دستاویزات کے ساتھ منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ یونین کونسل میں درخواست جمع کروانے کے بعد وہاں کا عملہ فراہم کردہ تمام معلومات اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد نکاح کا اندراج یونین کونسل کے سرکاری ریکارڈ اور نظام میں باقاعدگی سے کر دیا جاتا ہے۔

اندراج کے بعد درخواست گزار کو فراہم کردہ تفصیلات کا ایک پرنٹ آؤٹ دیا جاتا ہے تاکہ وہ پروف ریڈنگ کر سکیں۔ اس مرحلے پر جوڑے کو تمام معلومات کو غور سے دیکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی غلطی یا املا کی کوتاہی کو بروقت درست کیا جا سکے۔

درخواست گزار کی جانب سے تفصیلات کی تصدیق اور پروف ریڈنگ پرنٹ پر دستخط کرنے کے بعد اسے یونین کونسل کے عملے کے حوالے کیا جاتا ہے۔ دستخط شدہ دستاویز موصول ہونے کے بعد یونین کونسل کی جانب سے باقاعدہ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔

جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نادرا نے بھی اس عمل کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ مخصوص اضلاع میں اب یہ سہولت نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے، جس سے شہریوں کا کافی وقت بچتا ہے۔

جن اضلاع میں یہ ڈیجیٹل سہولت فی الحال دستیاب ہے ان میں جہلم، چکوال، ننکانہ صاحب، کوئٹہ اور کراچی شرقی شامل ہیں۔ ان علاقوں کے رہائشی اب گھر بیٹھے یا ایپ کے ذریعے اپنی درخواست کے عمل کو آگے بڑھانے کی سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

شادی شدہ جوڑوں کے لیے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ نکاح کے فوری بعد اندراج کا عمل مکمل کروا لیں۔ اس طرح شادی کا ایک مصدقہ سرکاری ریکارڈ بن جاتا ہے جو مستقبل میں پاسپورٹ، ویزا یا دیگر قانونی دستاویزات کے حصول میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

نادرا کے ریکارڈ میں اپنی ازدواجی حیثیت کو اپ ڈیٹ کروانا بھی شہریوں کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس سے نہ صرف نادرا کا ڈیٹا بیس درست رہتا ہے بلکہ خاندان کے افراد کو شناختی کارڈ یا دیگر دستاویزات بنواتے وقت کسی قسم کی پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

حکام کا کہنا ہے کہ نکاح کا بروقت اندراج نہ کروانے سے بعد ازاں قانونی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ لہذا، تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ یونین کونسل کے مقرر کردہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اپنے میرج سرٹیفکیٹ کا حصول جلد از جلد یقینی بنائیں۔

شہری کسی بھی قسم کی رہنمائی کے لیے اپنی متعلقہ یونین کونسل کے دفتر سے رابطہ کر سکتے ہیں جہاں عملہ انہیں رجسٹریشن کے مراحل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کر سکتا ہے۔ درست معلومات کی فراہمی سرٹیفکیٹ کے جلد اور بروقت اجرا کو یقینی بناتی ہے۔

یہ عمل شفافیت اور قانونی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام دستاویزات مکمل ہوں اور درخواست گزار خود یا اپنے مجاز نمائندے کے ذریعے متعلقہ دفتر میں پیش ہو۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں