مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 7:58
بریکنگ
کراچی: نجی ہسپتال کے آلات سے نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق، ہسپتال سیلسری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز: بابر اعظم کپتان برقرار، تین نئے کھلاڑی اسکواڈ میں شاملڈرائیو ان سینما: جدید ٹیکنالوجی اور بدلتے رجحاناتپاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی، فی تولہ نرخ 2500 روپے گر گئےسوات کے بالائی علاقوں میں ژالہ باری، مینگورہ سمیت ضلع بھر میں موسم سردملک بھر میں موسم خشک، شمالی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہنادرا کا شہریوں کے لیے ازدواجی حیثیت کی فوری تجدید کا اہم پیغاماسکوٹی تشدد واقعہ، مریم نواز نے لڑکی کو خود انصاف دلانے کا بتا دیالاہور میں ایک ہی شہری کے نام پر ہزاروں گاڑیاں اور چالان نکل آئےبیرونِ ملک سے آنے والے موبائل فونز کا ٹیکس اب اقساط میں ادا ہو سکے گاشاہین آفریدی اور ول جیکس کی پریس کانفرنس، سیریز اور ٹیم کی کارکردگی پر گفتگولیونل میسی کو اسپین میں باوقار شاہی اعزاز سے نواز دیا گیاکھلاڑی شہرت ملنے کے بعد سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں، محسن نقویبالی ووڈ میں فنکاروں کی صلاحیتیں محدود کی جا رہی ہیں، منوج باجپائیوزیراعلیٰ پنجاب کا غیر ضروری پروٹوکول اور پولیس سکواڈز کے خلاف بڑا فیصلہکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی مائگریشن بے نقاب، پانچ مسافر گرفتاروزیراعظم کروم بک اسکیم 2026: طلبا کے لیے اہلیت اور اپلائی کرنے کا طریقہ کار جاریڈویلپمنٹ سے متعلق معلومات عوام کا حق ہے، باخبر لوگ ترقی کی دلیل ہیں: مریم نوازامریکی ریئلٹی اسٹار انیکا راشون چھاتی کے کینسر کے باعث 34 برس کی عمر میں چل بسیںپاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقوی
کھیل

کھلاڑی شہرت ملنے کے بعد سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں، محسن نقوی

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈومیسٹک کرکٹ اور ٹیلنٹ نکھارنے کے امور پر روشنی ڈالی۔

کھلاڑی شہرت ملنے کے بعد سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں، محسن نقوی

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بعض اوقات کرکٹرز کو شہرت اور ناموری ملنے کے بعد وہ مزید سیکھنے کا عمل روک دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کا میدان ایک ایسا متحرک شعبہ ہے جہاں تسلسل کے ساتھ محنت جاری رکھنا کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران ایسے بہت سے کھلاڑی دیکھے ہیں جو برا وقت یا ناکامی آنے پر اپنی محنت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ بورڈ حکام کے مطابق پاکستان میں قدرتی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے مگر ان ٹیلنٹ کو پالش کرکے بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔

محسن نقوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ اکیلا اس ذمہ داری کو اچھے طریقے سے پورا نہیں کر سکتا۔ ان کا ماننا تھا کہ اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ فرنچائزز، کرکٹ ایسوسی ایشنز اور دیگر اداروں کو متحد ہو کر مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ بورڈ نے اندرونی طور پر اپنی اصلاح کا عمل مکمل کر لیا ہے جس کے مثبت اور اچھے نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں سفارش کلچر کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے اور میرٹ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

خواتین کی کھیلوں میں شرکت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ہماری بچیاں بھی کھیلوں کے میدانوں میں لڑکوں کے برابر حصہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں گراس روٹ سطح پر بے پناہ کھیلوں کا ٹیلنٹ موجود ہے۔

کھلاڑیوں کی تیاری کے عمل میں کارکردگی کو سراہتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پیپرز ڈویلپمنٹ کے حوالے سے لاہور قلندرز فرنچائز نے سب سے نمایاں اور بہترین کام کیا ہے۔ ان کا یہ بیان نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے حوالے سے اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان میں کرکٹ کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے پی سی بی کی جانب سے وقتاً فوقتاً اہم فیصلے کیے جاتے رہے ہیں تاکہ گراس روٹ لیول پر اچھے کھلاڑی سامنے آ سکیں۔

ماضی میں بھی کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ میں کس طرح زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ بورڈ حکام کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہترین پلیٹ فارم میسر آئے تاکہ قومی ٹیم کا بینچ اسٹرانگ ہو۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو مستحکم کرنے کے لیے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چیئرمین پی سی بی نے اس تقریب کے دوران ڈومیسٹک اسٹرکچر میں میرٹ اور محنت کی اہمیت پر خصوصی طور پر روشنی ڈالی ہے۔

تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے فروغ کا ذکر کرتے ہوئے ماہرین کا ماننا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں سے ہی بہترین کھلاڑی سامنے آتے ہیں۔ جامعات اور کالجوں کی سطح پر اگر باقاعدگی سے مقابلے کروائے جائیں تو پاکستان کرکٹ کو ایک بڑا پول مل سکتا ہے۔

خواتین کی کرکٹ کے حوالے سے بھی حالیہ برسوں میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر ابھرنے کے لیے مزید مواقع اور سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

فرنچائز کرکٹ بالخصوص پاکستان سپر لیگ نے ملک میں ٹیلنٹ کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مختلف فرنچائزز کی جانب سے گراس روٹ لیول پر جو ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام چلائے جاتے ہیں، ان کے ذریعے نئے چہرے سامنے آتے ہیں۔

چیئرمین پی سی بی کے اس بیان کو کھیلوں کے مبصرین کی جانب سے مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں میں عاجزی اور مسلسل سیکھنے کی لگن ہی انہیں طویل عرصے تک کرکٹ کے میدان میں کامیاب رکھ سکتی ہے۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں مزید بہتری آئے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی یہ کوششیں ملک میں کرکٹ کے مستقبل کو مزید روشن بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

کھیل کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں