برطانیہ میں جنگ، سائبر حملوں اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایک نئی قومی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت شہریوں کو اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ برطانوی حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی اس اہم قومی مہم کا بنیادی مقصد عوام کو کسی بھی ناگہانی صورتحال کے لیے پیشگی تیار رکھنا ہے۔
مہم کے تحت ملک بھر کے شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہنگامی حالات کے دوران کم از کم تین دن یعنی بہتر گھنٹوں کے لیے خود کفیل بنیں اور اپنے گھروں میں ضروری اشیاء کا ذخیرہ کریں۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں ایک جامع ہدایات نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں حفاظتی اقدامات کو اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔
حکومتی ہدایات کے مطابق تمام شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ڈبہ بند خوراک اور پینے کے صاف پانی کی بوتلیں ذخیرہ کر لیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر استعمال کی جا سکیں۔ اس سلسلے میں ہر شہری کے حساب سے روزانہ کی بنیاد پر تین لیٹر پینے کا پانی محفوظ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
خوراک اور پانی کے علاوہ برطانوی شہریوں کو یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ وہ ہنگامی حالات کے دوران استعمال کے لیے دیگر ضروری سامان بھی اپنے پاس تیار رکھیں۔ اس سامان میں ٹارچ، اضافی بیٹریاں، بیٹری سے چلنے والا ریڈیو اور موبائل فونز کے لیے پاور بینک شامل ہیں۔
حکومتی احکامات میں ایمرجنسی کی صورت میں فوری مالی ضرورت پوری کرنے کے لیے گھر میں کچھ نقدی رکھنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے تاکہ اے ٹی ایم یا بینکوں کی بندش کے دوران مشکلات سے بچا جا سکے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اس حفاظتی مہم کو بی ریڈی کا نام دیا گیا ہے۔
کابینہ آفس کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس مہم کا مقصد عامتہ الناس کو ممکنہ بحرانوں کے دوران ابتدائی تین دنوں تک کسی بیرونی مدد کے بغیر گزارا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پیشگی تیاری کسی بھی بڑے حادثے یا ہنگامی صورتحال کے اثرات کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
برطانیہ میں اس طرح کے اقدامات حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور عالمی حالات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس تیاری کا مقصد ملک کو مختلف ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا اور عوام میں شعور بیدار کرنا ہے۔
یہ ہدایات بنیادی طور پر ممکنہ سائبر حملوں، اہم قومی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے خطرات، شدید موسمی حالات، سیلاب اور طویل بجلی کی بندش جیسے مسائل کے پیش نظر جاری کی گئی ہیں۔ حالیہ عرصے میں دنیا بھر میں سیکیورٹی کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
برطانوی حکام نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ فی الوقت ملک کو کسی فوری جنگ یا براہ راست حملے کا سامنا نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کسی پیشگوئی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد صرف اور صرف حفاظتی تدابیر اختیار کرنا اور کسی بھی غیر متوقع بحران کے لیے تیار رہنا ہے۔
یورپ کے دیگر ممالک جیسے کہ فرانس، آئرلینڈ اور نیدرلینڈز میں بھی اس نوعیت کی پیشگی تیاریوں اور حفاظتی مہمات پر طویل عرصے سے زور دیا جا رہا ہے۔ اب برطانیہ نے بھی اسی طرز پر اپنی پالیسی کو بہتر بناتے ہوئے شہریوں کو تین دن کی پیشگی تیاری کی ہدایت دی ہے۔
برطانوی سیکیورٹی وزیر ڈین جاروس اور دیگر اہم رہنماؤں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ تمام ممکنہ خطرات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر لازمی اپنائیں۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بحران کی صورت میں نظم و ضبط اور پیشگی تیاری ہی نقصان کو کم کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہوتی ہے۔
حکومت کی جانب سے شہریوں کو یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں اور یہ ہدایات محض احتیاطی تدابیر کا حصہ ہیں۔ برطانوی عوام میں اس مہم کے حوالے سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے تاہم بڑی تعداد میں لوگ حکومتی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں سائبر سیکیورٹی اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے حکومتوں کو اس قسم کے اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔ برطانوی انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی یہ مہم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جو آنے والے دنوں میں بھی جاری رہے گی۔





اپنی رائے دیں