خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے مختلف دورافتادہ علاقوں میں خسرہ کی جان لیوا وبا نے پنج گاڑ لیے ہیں جس کے نتیجے میں پانچ معصوم بچے لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ اس وبائی مرض کے پھیلنے سے مقامی آبادی میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت کی ٹیموں کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق خسرہ کی یہ وبا ضلع لوئر دیر کے دو مخصوص اور ناہموار علاقوں غوڑاہ بانڈہ اور خوڑ بانڈہ میں شدت کے ساتھ پھیلی ہے۔ ان علاقوں میں طبی سہولیات کی محدود دستیابی کے باعث بیماری تیزی سے پھیلی اور چند ہی روز میں بچوں کی اموات کا دلخراش واقعہ پیش آ گیا۔
متعدد دیگر متاثرہ بچوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے قریبی اسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔ طبی عملہ ان بچوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل اور ادویات کا استعمال کر رہا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے فوری طور پر ہنگامی اقدامات اٹھانے کا آغاز کر دیا ہے۔ متعلقہ محکموں کے عملے کو مکمل طور پر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے کو بروقت روکا جا سکے۔
معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر دیر لوئر بشارت احمد اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں غوڑاہ بانڈہ اور خوڑ بانڈہ کا ہنگامی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد زمینی حقائق کا جائزہ لینا اور متاثرہ خاندانوں تک فوری ریلیف پہنچانا تھا۔
اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے سربراہ اور ہیلتھ آفیسر نے خسرہ کے باعث اپنے بچوں سے محروم ہونے والے سوگوار خاندانوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے غمزدہ والدین سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی خصوصی طبی ٹیمیں فوری طور پر متاثرہ بستیوں میں پہنچ چکی ہیں اور انہوں نے وہاں ہنگامی بنیادوں پر ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں اور عام شہریوں کو طبی امداد اور ضروری ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس مقصد کے لیے خصوصی وسائل بھی مختص کر دیے گئے ہیں۔
حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے اس خطرناک مرض پر قابو پانے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر بھرپور تعاون اور بیداری کی اشد ضرورت ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے علاقے کے مکینوں سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں۔ والدین سے کہا گیا ہے کہ وہ محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ خسرہ سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ بروقت ویکسینیشن ہے جو بچوں کو اس موذی مرض کے حملوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ ماضی میں بھی ایسی مہمات کے ذریعے کئی بیماریوں پر کامیابی سے قابو پایا گیا ہے۔
مقامی سطح پر اس وبا کے پھوٹ پڑنے کے بعد سے والدین میں خوف پایا جاتا ہے تاہم طبی ٹیموں کی موجودگی اور ویکسینیشن کے عمل شروع ہونے سے صورتحال میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
حکومت خیبر پختونخوا اور ضلعی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ جلد از جلد تمام متاثرہ بچوں کو صحت یاب کیا جائے اور اس مرض کے مزید پھیلاؤ کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس بھی طلب کی جا رہی ہیں۔





اپنی رائے دیں