مواد پر جائیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026 12 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:37
بریکنگ
گوادر میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکلسبیلہ میں کوچ اور وین میں خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحقراولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد، مقدمہ درجوفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہدہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرایرانی پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 7 غیر ملکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰلاہور کی فضا زہریلی، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیابلوچستان کے علاقے دالبندین میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈکراچی: آن لائن نیٹ ورک کے شکنجے میں پھنسی 13 سالہ بچی کو بازیاب کر لیا گیالاہور: مزنگ میں اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتارانگلش کپتان کا عادل راشد کو ٹیم سے باہر رکھنے کے فیصلے کا دفاعہالی ووڈ اداکارہ جینا اورٹیگا اپنی فلمیں اور تبصرے کیوں نہیں دیکھتیں؟اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات، تجارت و دفاع میں تعاون بڑھانے پر اتفاقبالی ووڈ اداکارہ ملائیکہ اروڑا کی شیخ زاید مسجد آمد، تصاویر وائرلبینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشافپورٹ قاسم پر ایل پی جی کی درآمد، دو جہاز لنگراندازکومل عزیز خان کا شوبز انڈسٹری کو مستقل خیرباد کہنے کا اعلانانٹرنیٹ پر خوشبوئیں شیئر کرنے کی جدید سینٹرونک ٹیکنالوجی تیارلاہور میں فضائی آلودگی میں کمی، ایئر کوالٹی انڈیکس 178 ریکارڈدہشت گردوں کو پناہ نہ دیں، صوبے کو مکمل پاک کریں گے: فیصل کریم کنڈی
موسم

پورٹ قاسم پر ایل پی جی کی درآمد، دو جہاز لنگرانداز

سوئی سدرن گیس کے لیے سات ہزار چھ سو میٹرک ٹن سے زائد درآمدی ایل پی جی پورٹ قاسم پہنچ گئی۔

پورٹ قاسم پر ایل پی جی کی درآمد، دو جہاز لنگرانداز

پورٹ قاسم پر ایل پی جی کی درآمد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور اسی سلسلے میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے درآمدی گیس لے کر دو بحری جہاز لنگرانداز ہو چکے ہیں۔ پورٹ قاسم انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دونوں جہازوں کے ذریعے ملک میں سات ہزار چھ سو تین میٹرک ٹن سے زائد ایل پی جی لائی گئی ہے۔

انتظامیہ نے بتایا ہے کہ اس درآمدی کھیپ سے ملک میں گیس کی طلب کو پورا کرنے اور ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ سردیوں کے موسم سے قبل گیس کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے اس قسم کے درآمدی اقدامات کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

پہلے بحری جہاز کا نام الیسا ون ہے جو پورٹ قاسم پر لنگرانداز ہوا ہے اور اس جہاز کے ذریعے تین ہزار تراسی میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کی گئی ہے۔ یہ جہاز مقررہ وقت پر بندرگاہ پر پہنچا جہاں اس کی باقاعدہ ڈسچارجنگ کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔

دوسرے بحری جہاز کا نام پی جی سی یانیاس ہے جو چار ہزار پانچ سو بیس میٹرک ٹن درآمدی ایل پی جی لے کر بندرگاہ پر پہنچا ہے۔ ان دونوں جہازوں کے لنگرانداز ہونے سے سوئی سدرن گیس کے سپلائی نیٹ ورک کو مزید تقویت ملے گی۔

بندرگاہ پر پہنچنے والے ان جہازوں سے گیس کی ترسیل کے بعد اسے متعلقہ تنصیبات تک پہنچایا جائے گا تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو بلاتعطل فراہمی یقینی بنای جا سکے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے اس پورے عمل کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے درآمدی ایل پی جی کی ترسیلات کا یہ سلسلہ جاری رہا ہے۔ پورٹ قاسم اتھارٹی اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ توانائی کے حامل ان جہازوں کی برتھنگ اور کلیئرنس کے امور میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

سوئی سدرن گیس کے حکام کے مطابق موصول ہونے والی اس ایل پی جی کو فوری طور پر ملک کے مختلف حصوں میں تقسیم کے نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں گیس کی دستیابی بہتر ہوگی اور صارفین کو ریلیف ملے گا۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی درآمدات ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ درآمدی گیس کی بروقت رسد سے صنعتی پیداوار کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

پورٹ قاسم انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں درآمدی اشیاء اور توانائی کے جہازوں کی آمد و رفت کو مزید شفاف اور تیز بنایا جائے گا۔ بندرگاہ کے تمام متعلقہ شعبے ہنگامی بنیادوں پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں توانائی کے مزید جہازوں کی آمد متوقع ہے جس سے ملک میں گیس کے ذخائر میں مزید بہتری آئے گی۔ حکومت اور متعلقہ ادارے توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

ترسیل کے اس پورے عمل کے دوران تمام حفاظتی اور بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ پورٹ قاسم پر جہاز رانی کے امور کو جدید تقاضوں کے مطابق چلایا جا رہا ہے تاکہ کارگو کی بروقت ترسیل ممکن ہو سکے۔

سوئی سدرن گیس نیٹ ورک کے تحت گیس کی یہ نئی کھیپ جلد ہی گیس پائپ لائن سسٹم کا حصہ بن جائے گی۔ اس سے نہ صرف گھریلو صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ تجارتی اداروں کو بھی گیس کی تسلی بخش فراہمی جاری رہے گی۔

پورٹ قاسم پر جہازوں کے لنگرانداز ہونے کے بعد بندرگاہ کے حکام نے تمام آپریشنل امور کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس درآمد سے ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔

موسم کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں