لاہور شہر میں فضائی آلودگی کی مجموعی صورتحال میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے جہاں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس یعنی اے کیو آئی کی سطح کم ہو کر 178 پر آ گئی ہے۔ ماحول کو صاف ستھرا بنانے اور زہریلے دھوئیں کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے مسلسل اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھی گئی ہیں۔
صوبائی دارالحکومت میں اس موسمی تبدیلی کے بعد فضا کے معیار میں قدرے بہتری دیکھی گئی ہے جسے ماہرین اور حکام کی جانب سے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہر کے مختلف حساس علاقوں میں انسدادِ سموگ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے انسدادِ سموگ اقدامات کے اب زمینی سطح پر مثبت اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری رکھا گیا ہے۔
مریم اورنگزیب نے تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ شہر کے مختلف حصوں اور شاہراہوں پر فضائی آلودگی کا خاتمہ کرنے کے لیے خصوصی سموگ گنز کا آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ پانی کے چھڑکاؤ اور دیگر تکنیکی طریقوں سے فضا میں موجود گرد و غبار اور ذرات کو بیٹھانے میں خاطر خواہ مدد مل رہی ہے۔
حکومتی ترجمان اور متعلقہ محکموں کے مطابق اگر مقامی سطح پر آلودگی پھیلانے والے عناصر پر مزید مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا جائے تو آنے والے دنوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس میں مزید نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تمام متعلقہ محکمے اس اہم ہدف کے حصول کے لیے دن رات سرگرم عمل ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر نے اس موقع پر لاہور کے غیور اور باشعور شہریوں سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ صاف ستھری ہوا کے حصول کے لیے حکومتی اقدامات میں بڑھ چڑھ کر بھرپور ساتھ دیں۔ شہریوں کا فعال تعاون اس ماحولیاتی مہم کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
شہریوں سے پرزور درخواست کی گئی ہے کہ وہ ماحول دشمن سرگرمیوں سے مکمل گریز کریں اور کچرا جلانے جیسے اقدامات سے اجتناب کریں تاکہ کسی بھی قسم کے زہریلے دھوئیں کا اخراج روکا جا سکے جو بعد میں شہر میں خطرناک سموگ کی بڑی وجہ بنتا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے کاشتکاروں، کسانوں اور عامتہ الناس کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے کے عمل سے بالکل گریز کریں۔ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے پیدا ہونے والا کالا دھواں فضا کو شدید حد تک متاثر کرتا ہے۔
صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ شہری فضائی آلودگی میں کمی کی اس اجتماعی قومی مہم میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتے ہوئے تمام تر ماحولیاتی قوانین کی مکمل پابندی کریں۔ قوانین پر سختی سے عمل درآمد سے ہی سموگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
ہوا کے معیار کو مسلسل بہتر بنانے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ پوری طرح پُرعزم ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا رہا۔ محکمہ ماحولیات کی فیلڈ ٹیمیں بھی متحرک ہیں۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ عوام کے پرخلوص تعاون اور سرکاری اداروں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں لاہور میں سموگ کے خطرات کو کم سے کم سطح پر لایا جا سکے گا، جس سے عام شہریوں کو بڑی راحت ملے گی۔
صوبائی دارالحکومت میں ماحولیاتی بہتری کی یہ لہر اس بات کی غماز ہے کہ اگر درست سمت میں مسلسل اقدامات کیے جائیں تو فضائی آلودگی کے دیرینہ مسائل پر قابو پانا ممکن ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ بہتری کے اس تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے گا۔
شہریوں نے بھی فضا میں بہتری کی اس علامت کو سراہا ہے جبکہ متعلقہ اداروں نے واضح کیا ہے کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی تاکہ صاف فضا کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں