وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک بار پھر اہم موڑ پر آ گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات کے لیے 20 دسمبر کی تاریخ کا اعلان کیا ہے، تاہم ان انتخابات کا بروقت انعقاد حکومتی انتظامات اور مکمل تعاون پر منحصر ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات موجودہ نافذ العمل 'لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015' کے تحت منعقد کیے جائیں گے۔ کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرستیں 14 اکتوبر کو ہی جاری کی جا چکی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابات کا انعقاد حکومتی سطح پر ہونے والے انتظامی اقدامات سے مشروط ہے۔ وفاقی حکومت اس وقت اسلام آباد کے لیے ایک نئے انتظامی اور بلدیاتی ڈھانچے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت شہر میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اسلام آباد کے لیے صوبائی طرز کی 27 رکنی اسمبلی بنانے کی تجویز پر کام کر رہی ہے۔ اس تجویز میں براہِ راست منتخب نمائندوں اور مخصوص نشستوں کا فارمولا شامل ہے۔
اس مجوزہ نظام کے تحت شہر میں تین ٹاؤن کارپوریشنز کے قیام کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ تاہم، تاحال نیا بلدیاتی نظام موجودہ قانون کا متبادل نہیں بن سکا ہے اور انتخابی عمل کے لیے قانونی پیچیدگیاں بدستور برقرار ہیں۔
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ گزشتہ ایک طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے۔ شہر میں اب تک چھ مرتبہ حلقہ بندیاں کی جا چکی ہیں جبکہ چار مرتبہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد منسوخ کیے گئے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کی آخری بلدیاتی حکومت کی آئینی مدت فروری 2021 میں مکمل ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے شہری پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اپنے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی خدمات سے محروم چلے آ رہے ہیں۔
انتخابی عمل میں بار بار تاخیر کی بنیادی وجہ یونین کونسلوں کی تعداد میں مسلسل تبدیلیاں رہی ہیں۔ ماضی میں یو سیز کی تعداد کو 50 سے بڑھا کر 101 اور پھر 125 تک کیا گیا، جس کی وجہ سے انتخابی عمل بار بار تعطل کا شکار ہوا۔
دسمبر 2022 میں پولنگ سے چند روز قبل قانون سازی کے باعث انتخابات ملتوی کیے گئے تھے۔ اسی طرح سال 2024 میں بھی قانونی ترامیم کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کو جاری کردہ شیڈول واپس لینا پڑا تھا۔
بلدیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے جاری کیا گیا صدارتی آرڈیننس بھی 6 ستمبر کو اپنی مدت پوری کر کے ختم ہو چکا ہے۔ اس وقت الیکشن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بلدیاتی قواعد کی منظوری کا نہ ہونا ہے۔
قواعد کی منظوری کا معاملہ تاحال حل طلب ہے، جس پر الیکشن کمیشن نے وزارتِ داخلہ کو متعدد یاددہانی خطوط ارسال کیے ہیں۔ کمیشن کا موقف ہے کہ 20 دسمبر کو انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے ان قواعد کا جلد از جلد طے ہونا ضروری ہے۔
انتخابی عمل میں اس غیر یقینی صورتحال کے باعث شہریوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے جو طویل عرصے سے اپنے مقامی مسائل کے حل کے لیے منتخب نمائندوں کے منتظر ہیں۔ بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی سے شہر کے انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت مقررہ تاریخ تک انتظامات مکمل کرنے اور بلدیاتی قواعد کی منظوری دینے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول پر عملدرآمد کے لیے حکومتی تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔





اپنی رائے دیں