مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:57
بریکنگ
کراچی: نجی ہسپتال کے آلات سے نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق، ہسپتال سیلپنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہبالی ووڈ میں فنکاروں کی صلاحیتیں محدود کی جا رہی ہیں، منوج باجپائیوزیراعلیٰ پنجاب کا غیر ضروری پروٹوکول اور پولیس سکواڈز کے خلاف بڑا فیصلہکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی مائگریشن بے نقاب، پانچ مسافر گرفتاروزیراعظم کروم بک اسکیم 2026: طلبا کے لیے اہلیت اور اپلائی کرنے کا طریقہ کار جاریڈویلپمنٹ سے متعلق معلومات عوام کا حق ہے، باخبر لوگ ترقی کی دلیل ہیں: مریم نوازامریکی ریئلٹی اسٹار انیکا راشون چھاتی کے کینسر کے باعث 34 برس کی عمر میں چل بسیںپاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقویبھارت نے نیوزی لینڈ کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں شکست دے کر سیریز میں برتری دو صفر کر لیڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیخلاف بڑے آپریشن کی دھمکی، پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰمیاں عامر کی پی سی بی اور ایچ ای سی کو ٹیلنٹ ہنٹ میں تعاون کی پیشکشبیوی پر تشدد اور زیور بیچنے کا کیس، اسسٹنٹ کمشنر جیل منتقلکراچی ایئرپورٹ پر کارروائی، عمرہ ویزے کا غلط استعمال کرنے والے 5 مسافر گرفتارمیر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر پولیس افسران کے خلاف کارروائی شروعسپریم کورٹ: قتل کیس کے ملزم کی قبل از وقت رہائی قانون کے خلاف قرارصوابی میں علماء و مشائخ کا پاک فوج اور حکومت سے بھرپور یکجہتی کا اعلانایران پر نیا حملہ کشیدگی بڑھا دے گا، ترک وزیرِ خارجہ کا انتباہبرطانیہ میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے نئی قومی مہم کا آغازپنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
کھیل

عثمان خواجہ کا اپنے نام سے منسوب جعلی سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت ردعمل

آسٹریلوی کرکٹر نے وضاحت کی ہے کہ ان کی پرانی ٹویٹ کو غلط سیاق و سباق کے ساتھ فرانس کے حالیہ احتجاج سے جوڑا جا رہا ہے۔

عثمان خواجہ کا اپنے نام سے منسوب جعلی سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت ردعمل

سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پر اپنے نام سے منسوب ایک وائرل پوسٹ کی سختی سے تردید کی ہے۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی اس پوسٹ میں ان کی ایک پرانی ٹویٹ کو فرانس میں جاری احتجاجی مظاہروں کی ایک تصویر کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جا رہا تھا۔

وائرل ہونے والی اس متنازع پوسٹ میں فرانس میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے ایک شخص کی تصویر دکھائی گئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ عثمان خواجہ کی دو سال پرانی ٹویٹ کا اسکرین شاٹ شامل کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کسی خاص موقع پر اظہارِ رائے کیا تھا۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پوسٹ کو فرانس میں جاری عوامی خدمات اور تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس غلط تشریح کے بعد عثمان خواجہ نے فوری طور پر میدان میں آ کر حقائق واضح کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے پروپیگنڈا قرار دیا۔

عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ان کی وہ ٹویٹ دراصل دو سال قبل ایک فٹ بال میچ کے تناظر میں کی گئی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے الفاظ کا موجودہ حالات یا فرانس کے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کرکٹر نے اپنے پیغام میں جھوٹ پھیلانے والے عناصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی گمراہ کن مہمات بند کی جائیں۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ کا اصل مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ پرانی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔

واضح رہے کہ فرانس میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مختلف عوامی مسائل اور تعلیمی نظام میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جو سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہیں۔

عثمان خواجہ ماضی میں بھی اپنے سماجی اور انسانی حقوق سے متعلق بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ تاہم اس بار انہوں نے اپنے نام کے غلط استعمال پر فوری ردعمل دے کر کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

سوشل میڈیا پر کسی بھی مشہور شخصیت کے پرانے بیانات کو موجودہ حالات کے ساتھ جوڑ کر وائرل کرنا ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو ایسی پوسٹس پر یقین کرنے سے پہلے ان کے اصل سیاق و سباق کی تصدیق کر لینی چاہیے۔

عثمان خواجہ کی جانب سے اس وضاحت کے بعد ان کے مداحوں نے ان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ کرکٹ شائقین کا ماننا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا افسوسناک ہے۔

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی نے اپنی وضاحت میں کسی بھی قسم کے ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی ٹویٹس کے حوالے سے ذمہ دار ہیں لیکن انہیں غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں معلومات کی تصدیق کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ عثمان خواجہ کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشہور شخصیات اب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے غلط فہمیوں کا جواب دینے میں زیادہ فعال ہو چکی ہیں۔

فرانس میں جاری حالیہ احتجاج کے حوالے سے عالمی میڈیا پر مختلف آراء موجود ہیں۔ تاہم عثمان خواجہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود ان کا نام استعمال کرنا سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی ایک بڑی مثال ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس واضح تردید کے بعد عثمان خواجہ کے نام سے منسوب یہ جعلی پوسٹ اور اس سے جڑی غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی۔ کھلاڑی نے اپنے پیغام کے ذریعے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ حقائق پر مبنی بات کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

کھیل کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں