سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پر اپنے نام سے منسوب ایک وائرل پوسٹ کی سختی سے تردید کی ہے۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی اس پوسٹ میں ان کی ایک پرانی ٹویٹ کو فرانس میں جاری احتجاجی مظاہروں کی ایک تصویر کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جا رہا تھا۔
وائرل ہونے والی اس متنازع پوسٹ میں فرانس میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے ایک شخص کی تصویر دکھائی گئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ عثمان خواجہ کی دو سال پرانی ٹویٹ کا اسکرین شاٹ شامل کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کسی خاص موقع پر اظہارِ رائے کیا تھا۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پوسٹ کو فرانس میں جاری عوامی خدمات اور تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس غلط تشریح کے بعد عثمان خواجہ نے فوری طور پر میدان میں آ کر حقائق واضح کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے پروپیگنڈا قرار دیا۔
عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ان کی وہ ٹویٹ دراصل دو سال قبل ایک فٹ بال میچ کے تناظر میں کی گئی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے الفاظ کا موجودہ حالات یا فرانس کے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کرکٹر نے اپنے پیغام میں جھوٹ پھیلانے والے عناصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی گمراہ کن مہمات بند کی جائیں۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ کا اصل مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ پرانی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔
واضح رہے کہ فرانس میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مختلف عوامی مسائل اور تعلیمی نظام میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جو سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہیں۔
عثمان خواجہ ماضی میں بھی اپنے سماجی اور انسانی حقوق سے متعلق بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ تاہم اس بار انہوں نے اپنے نام کے غلط استعمال پر فوری ردعمل دے کر کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔
سوشل میڈیا پر کسی بھی مشہور شخصیت کے پرانے بیانات کو موجودہ حالات کے ساتھ جوڑ کر وائرل کرنا ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو ایسی پوسٹس پر یقین کرنے سے پہلے ان کے اصل سیاق و سباق کی تصدیق کر لینی چاہیے۔
عثمان خواجہ کی جانب سے اس وضاحت کے بعد ان کے مداحوں نے ان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ کرکٹ شائقین کا ماننا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا افسوسناک ہے۔
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی نے اپنی وضاحت میں کسی بھی قسم کے ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی ٹویٹس کے حوالے سے ذمہ دار ہیں لیکن انہیں غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں معلومات کی تصدیق کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ عثمان خواجہ کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشہور شخصیات اب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے غلط فہمیوں کا جواب دینے میں زیادہ فعال ہو چکی ہیں۔
فرانس میں جاری حالیہ احتجاج کے حوالے سے عالمی میڈیا پر مختلف آراء موجود ہیں۔ تاہم عثمان خواجہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود ان کا نام استعمال کرنا سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی ایک بڑی مثال ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ اس واضح تردید کے بعد عثمان خواجہ کے نام سے منسوب یہ جعلی پوسٹ اور اس سے جڑی غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی۔ کھلاڑی نے اپنے پیغام کے ذریعے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ حقائق پر مبنی بات کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔





اپنی رائے دیں