پشاور میں پاکستان بیت المال اور فاٹا یونیورسٹی کے مابین ایک اہم تعلیمی معاہدہ طے پایا ہے، جس کا مقصد یونیورسٹی کے مستحق طلبہ کو مالی مشکلات سے نکال کر ان کی تعلیم کا تسلسل یقینی بنانا ہے۔ اس اقدام کے تحت 50 ضرورت مند طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔
اس سلسلے میں پاکستان بیت المال خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر لعل بادشاہ نے فاٹا یونیورسٹی کا خصوصی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز سے ملاقات کی، جس میں تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں اداروں کے حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستحق طلبہ کو تعلیمی اخراجات کی ادائیگی میں درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔ اس تعاون کو باضابطہ شکل دینے کے لیے جلد ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالی تنگی کسی بھی باصلاحیت طالب علم کی تعلیمی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ انہوں نے پاکستان بیت المال کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے طلبہ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور سہولیات کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسکالرشپس ملنے سے طلبہ بغیر کسی ذہنی دباؤ کے اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔
پاکستان بیت المال کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تعلیمی میدان میں مستحق افراد کی مدد کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ اسکالرشپس ان طلبہ کے لیے ایک بڑی ریلیف ثابت ہوں گی جو مالی وسائل کی کمی کے باعث اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔
اس اہم ملاقات میں دونوں اداروں کے انتظامی افسران کے علاوہ زرعی یونیورسٹی پشاور کے ڈائریکٹر اسپورٹس محمد بلال مروت بھی موجود تھے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے سرکاری اور فلاحی اداروں کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
فاٹا یونیورسٹی کے طلبہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے اپنے تعلیمی کیریئر کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ اسکالرشپس نہ صرف طلبہ کی مالی معاونت کریں گی بلکہ انہیں معاشرے کا مفید شہری بننے میں بھی مدد فراہم کریں گی۔
پاکستان بیت المال خیبر پختونخوا کی جانب سے یہ اقدام صوبے میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ اس طرح کے پروگراموں سے غریب اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے مساوی مواقع میسر آتے ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اسکالرشپس کے لیے شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صرف حق دار طلبہ ہی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ اس مقصد کے لیے جلد ہی درخواستوں اور انتخاب کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان بیت المال اور یونیورسٹیوں کے درمیان اس طرح کے اشتراک سے تعلیمی اداروں میں مالی بحرانوں کے شکار طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ یہ عمل ملک میں خواندگی کی شرح بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
مستقبل میں بھی اس طرح کے تعاون کو بڑھانے کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اسکالرشپس کے دائرہ کار میں لایا جا سکے۔ فاٹا یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے تمام طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کی تلقین کی ہے۔
یہ پیش رفت فاٹا یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے جو اپنی تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ پاکستان بیت المال کا یہ اقدام تعلیم دوست پالیسیوں کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے جو کہ قومی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔





اپنی رائے دیں