واشنگٹن میں جاری سیاسی سرگرمیوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کو تیز کرتے ہوئے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں مختلف ریاستوں کے دورے شروع کر دیے ہیں۔ ان ریلیوں کا مقصد مڈٹرم انتخابات میں اپنی جماعت کی پوزیشن کو مستحکم کرنا اور ووٹرز کو متحرک کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں انتخابی سروے کرنے والے اداروں پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کے نتائج کو متاثر کرنے کے لیے پیسے دے کر جھوٹے سروے کروائے جا رہے ہیں جن کا مقصد ریپبلکنز کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
امریکی صدر نے خاص طور پر نیویارک ٹائمز کا نام لیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ ادارہ ڈیموکریٹس کے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے اور پیسے لے کر ایسے سروے شائع کیے جا رہے ہیں جو حقیقت سے دور ہیں۔
دوسری جانب رائٹرز کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ سروے رپورٹ میں امریکی صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں ریکارڈ کمی کا اشارہ دیا گیا ہے جس کے باعث ریپبلکنز پریشان ہیں۔
انتخابی ماحول میں تلخی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی سفارت خانے کی جانب سے کینیڈا پر امریکی انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا گیا۔ ایک جاری کردہ فیکٹ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیڈین حکام امریکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی حکام کا موقف ہے کہ کینیڈا کے وزراء اور اعلیٰ قیادت عوامی سطح پر ایسے بیانات دے رہے ہیں جو 3 نومبر کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ الزامات دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی تناؤ کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
یاد رہے کہ 2025 میں صدر ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز کے بعد سے ہی امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ کینیڈا نے امریکی ٹیرف پالیسیوں کے جواب میں جوابی ٹیکس عائد کیے تھے جس سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
کینیڈا کی حکومت نے امریکی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے داخلی انتخابی عمل میں مداخلت پر یقین نہیں رکھتے اور تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مڈٹرم انتخابات امریکی سیاست میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کی بقیہ مدت صدارت کے دوران قانون سازی اور پالیسی سازی کے عمل پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
ریپبلکن پارٹی کی قیادت کا ماننا ہے کہ اگر وہ کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کو زیادہ تیزی سے آگے بڑھا سکیں گے۔ اس لیے پارٹی کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی بھی ان انتخابات کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر ریفرنڈم قرار دے رہی ہے۔ اپوزیشن جماعت کا دعویٰ ہے کہ ووٹرز موجودہ انتظامیہ کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں اور تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا کا کردار بھی کلیدی رہا ہے۔ دونوں جماعتیں اپنے بیانیے کو عوام تک پہنچانے کے لیے بھاری اخراجات کر رہی ہیں جبکہ انتخابی ریلیوں میں کارکنوں کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔
آئندہ چند روز میں انتخابی مہم مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے مزید عوامی اجتماعات سے خطاب متوقع ہے جس میں وہ اپنی کامیابی کے لیے ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دیں گے۔





اپنی رائے دیں