مواد پر جائیں
بدھ، 4 نومبر 2026 24 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
کیشا لانس باٹمز امریکی ریاست جارجیا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخبامریکی انتخابات: ڈیموکریٹک امیدواروں نے جنوبی اور شمالی کیرولائنا میں نشستیں جیت لیںلیگ آف لیجنڈز ورلڈ چیمپئن شپ: انوکٹس گیمنگ سیمی فائنل میں پہنچ گئییورپ میں پروازوں اور بحری جہاز کو بم کی دھمکیاں، تمام الرٹ جھوٹے نکلےچیمپئنز لیگ: مانچسٹر یونائیٹڈ کی روما کے خلاف شاندار کم بیک فتحچیمپیئنز لیگ: بارسلونا کی ایستون ولا کے خلاف 0-3 سے شاندار کامیابینیویارک جائنٹس اور کارنر بیک گریگ نیوسم کے درمیان 46 ملین ڈالر کا معاہدہملیحہ علی نے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں روسی حریف کو شکست دے دیامریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ملک بھر میں ایک ہزار الیکشن مانیٹرز تعیناتامریکی وسطی مدتی انتخابات، کانگریس میں اکثریت کا فیصلہ کن مرحلہمریم نواز کا چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے کا ہتکِ عزت کا نوٹسبلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشت گرد ہلاک، ایک سپاہی شہیدامریکی وسطی مدتی انتخابات میں خلاء سے بھی ووٹ کاسٹ کیے گئےنیوزی لینڈ کے اوپنر ڈی ون کون وے بھارت کے خلاف پہلے ون ڈے سے باہرپی سی بی کا مرکزی کنٹریکٹ تنخواہوں کو ڈومیسٹک کرکٹ سے مشروط کرنے کا فیصلہڈسکہ میں شادی کی تقریب میں بھگدڑ کا واقعہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹک ٹاکر ان سر محمود کو حفاظتی ضمانت دے دیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں برس کے آخر میں اسرائیل کو امداد بند کرنے کا اعلانامریکا سال کے آخر میں اسرائیل کی سالانہ چار ارب ڈالر امداد بند کر دے گاامریکہ میں وسطی مدتی انتخابات، کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ آجسپین: دورانِ میچ گول کیپر سے تصادم کے بعد ٹینریف کا فٹبالر جاں بحق
پاکستان

کراچی: پولیس یونٹس کے مابین جھگڑے کی انکوائری مکمل، کارروائی کا فیصلہ

ناظم آباد میں ملزمان کی گرفتاری پر ضلعی پولیس اور ایس آئی یو کے درمیان ہونے والے تصادم کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی۔

کراچی کے علاقے ناظم آباد میں پیش آنے والے پولیس اہلکاروں کے باہمی جھگڑے کے معاملے کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کے لیے سفارشات تیار کی گئی ہیں، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے معاملے پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ چند روز قبل ملزمان کی گرفتاری کے معاملے پر پیش آیا تھا، جس میں ضلعی پولیس اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے اہلکار آمنے سامنے آ گئے تھے۔ اس کشیدگی کے دوران ایک ڈی ایس پی سمیت پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایس آئی یو کی ٹیم کی قیادت سب انسپکٹر نور اللہ کر رہے تھے۔ رپورٹ میں ایس آئی یو کے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے، کیونکہ ان کا رویہ ضابطہ اخلاق کے منافی پایا گیا ہے۔

دوسری جانب ضلع وسطی کی پولیس انتظامیہ کے خلاف بھی کارروائی متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے دوران بدانتظامی اور صورتحال کو کنٹرول نہ کر پانے پر ضلع وسطی کے کچھ اہلکاروں کو معطل کیے جانے کا امکان ہے تاکہ نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا آج یہ جامع انکوائری رپورٹ اعلیٰ پولیس حکام کو ارسال کریں گے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں حتمی احکامات جاری کیے جائیں گے جس کا مقصد محکمہ پولیس کے اندر پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

پولیس حکام نے مزید بتایا کہ اس معاملے سے جڑے پانچ ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ ملزمان شارٹ ٹرم اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث تھے، جن کی گرفتاری کے لیے دونوں یونٹس کے درمیان تنازع پیدا ہوا تھا۔

تفتیشی ٹیموں کے مطابق اس گروہ میں مبینہ طور پر شامل ایک پولیس کانسٹیبل تاحال مفرور ہے جس کی تلاش جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مفرور اہلکار کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

کراچی پولیس کے ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ محکمہ کے اندر کسی بھی قسم کی گروہ بندی یا غیر قانونی عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شہریوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کو اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔

اس واقعے کے بعد سے شہر کے دیگر تھانوں میں بھی پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ کسی بھی قسم کے تنازع کی صورت میں اعلیٰ افسران سے رابطہ کرنے کی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

عوامی حلقوں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کے اندر نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کا کام امن و امان کا قیام ہے، نہ کہ آپس میں دست و گریباں ہونا۔

پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر من و عن عمل کیا جائے گا۔ کسی بھی اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔

واقعے کے بعد سے ناظم آباد اور گردونواح میں سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے جاری مہم کو کسی بھی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس موضوع پر مزید خبریں

پاکستان کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں