مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں روک دیںکرسٹیانو رونالڈو کا انٹرنیشنل فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلانانگلش کاؤنٹی کرکٹ کلب گلوسٹر شائر کا ٹی 20 بلاسٹ کیلئے نام تبدیللاہور: شہری سے کھانے کے پیسے مانگنے والے تین پولیس اہلکار گرفتار، مقدمہ درجچین اور کویت کی جانب سے 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیبرطانیہ میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں ولادیمیر پیوٹن شرکت نہیں کریں گےبرطانوی اداکار رسل برانڈ ریپ اور جنسی حملوں کے مقدمے میں مجرم قرارپردہ دار خواتین کو زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے، اداکارہ حنا خواجہ بیات کا انکشافجاپان فٹ بال ایسوسی ایشن کے کوزو تاشیما فیفا صدارت کے امیدوارپنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے 40 سال سے بچھڑی بنگلہ دیشی خاتون کے اہل خانہ تلاش کر لیےمقامی دفاعی صلاحیتوں کا فروغ اور مسلسل تربیت ناگزیر ہے: فیلڈ مارشل عاصم منیراوگرا کی جانب سے 6 نومبر کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے ریلیف کا امکانوزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کا افتتاح کر دیاسعودی عرب: ینبع میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر سول ڈیفنس کا الرٹ جاریوارنر برادرز کی نئی اینیمیٹڈ فلم دی کیٹ ان دی ہیٹ کا اعلانچیمپئنز لیگ: کومو کی لینس کے خلاف تاریخی فتح، لیورپول کو شکستپاکستان میں رواں سال کا نواں پولیو کیس ضلع خیبر سے رپورٹپاکستان اور برطانیہ کا سیکیورٹی، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاقوسیم اکرم کا افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت سے انکارپولیو سے پاک پاکستان کا حصول بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم شہباز شریف
لاہور

لاہور: شہری سے کھانے کے پیسے مانگنے والے تین پولیس اہلکار گرفتار، مقدمہ درج

برکت مارکیٹ میں تعینات اہلکاروں نے شہری کو روک کر پیسوں کا مطالبہ کیا تھا، ملزمان کے خلاف بھکاری ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔

لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن کی برکت مارکیٹ میں دورانِ ڈیوٹی ایک شہری سے کھانے کے لیے پیسوں کا مطالبہ کرنے والے تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان نے ڈیوٹی کے دوران شہری کو روک کر ہراساں کیا اور رقم کا مطالبہ کیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے جانے والے اہلکاروں کی شناخت فیاض، فرحان اور احمد مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان تینوں اہلکاروں کے خلاف 'بھکاری ایکٹ' (Vagrancy Act) کے تحت باضابطہ مقدمہ درج کر کے تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی عزتِ نفس اور پولیس فورس کے وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوانی میں ملوث کسی بھی اہلکار کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی وردی کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور محکمے میں احتساب کا عمل بلا امتیاز جاری رہے گا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی اعلیٰ حکام نے فوری نوٹس لیا جس کے بعد متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ انہیں ہراساں کرنا۔

گرفتار کیے گئے تینوں اہلکار اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں اور ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ تفتیش کے دوران یہ تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ اہلکار اس طرح کی دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔

برکت مارکیٹ لاہور کا ایک مصروف کاروباری مرکز ہے جہاں شہریوں کی بڑی تعداد خریداری کے لیے آتی ہے۔ اس واقعے کے بعد مقامی شہریوں نے پولیس کے اس اقدام کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

پولیس حکام کے مطابق اس کیس کو ایک مثال بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اہلکار وردی کا غلط استعمال نہ کر سکے۔ محکمہ پولیس میں احتساب کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ شہریوں کا پولیس پر اعتماد بحال رکھنا اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی اہلکار کی جانب سے بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مقدمے کے اندراج کے بعد اب ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں سے ان کا مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق بھکاری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونا اہلکاروں کے لیے سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

پولیس کے ترجمان نے مزید بتایا کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کسی بھی قسم کی سفارش یا دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر قانون کے مطابق کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی پولیس اہلکار کی جانب سے غیر قانونی مطالبے کا سامنا ہو تو وہ فوری طور پر اعلیٰ حکام کو رپورٹ کریں۔ پولیس فورس کے اندر کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرنا عوام کا حق اور ذمہ داری ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

لاہور کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں