طبی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ آٹزم کے شکار افراد میں پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہونے کا امکان دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں درمیانی اور اس سے زائد عمر کے افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
امریکی محققین نے 45 سال اور اس سے زائد عمر کے 5 کروڑ 70 لاکھ افراد کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ آٹزم کے شکار بالغ افراد میں پارکنسنز کی علامات ظاہر ہونے کی شرح ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تھی جنہیں اعصابی نشوونما سے متعلق یہ عارضہ لاحق نہیں تھا۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم کے مطابق آٹزم کے شکار تقریباً 4 فیصد افراد میں ہاتھوں میں کپکپی، پٹھوں میں اکڑاؤ اور یادداشت و سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی جیسی علامات دیکھی گئیں۔ اس کے برعکس دیگر افراد میں یہ شرح صرف 1.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈوپامین دماغ میں حرکات، تحریک اور رویوں کو منظم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ پارکنسنز کا مرض اس وقت لاحق ہوتا ہے جب دماغ میں ڈوپامین پیدا کرنے والے خلیات کی تعداد کم ہو جاتی ہے، جبکہ آٹزم کے شکار افراد کا دماغ بھی ڈوپامین کو مختلف انداز میں پراسیس کرتا ہے۔
محققین نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آٹزم کے مریضوں میں پارکنسنز کی علامات محض جسمانی ہم آہنگی کی مشکلات کا نتیجہ نہیں ہیں۔ اگرچہ آٹزم کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی کچھ ادویات کے مضر اثرات بھی پارکنسنز جیسی علامات پیدا کر سکتے ہیں، تاہم ادویات کے اثرات کو مدنظر رکھنے کے باوجود خطرے کی شرح نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
ماہرین کے مطابق پارکنسنز کا مرض مریض کی خود مختار زندگی گزارنے کی صلاحیت کو بتدریج ختم کر دیتا ہے۔ فی الحال اس مرض کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں ہے، تاہم سائنس دانوں کو امید ہے کہ نئی نسل کی ادویات کی تیاری سے اس بیماری کے علاج میں بڑی پیش رفت متوقع ہے جو آئندہ تین برسوں میں دستیاب ہو سکتی ہے۔




اپنی رائے دیں