مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں روک دیںکرسٹیانو رونالڈو کا انٹرنیشنل فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلاناپ ڈیٹ: وزیراعظم کا پیٹرول ریلیف نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمسعودی عرب: ینبع میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر سول ڈیفنس کا الرٹ جاریوارنر برادرز کی نئی اینیمیٹڈ فلم دی کیٹ ان دی ہیٹ کا اعلانچیمپئنز لیگ: کومو کی لینس کے خلاف تاریخی فتح، لیورپول کو شکستپاکستان میں رواں سال کا نواں پولیو کیس ضلع خیبر سے رپورٹپاکستان اور برطانیہ کا سیکیورٹی، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاقوسیم اکرم کا افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت سے انکارپولیو سے پاک پاکستان کا حصول بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم شہباز شریفپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 7 فروری 2027 کو ہوگاوکٹر ومبنیاما کے 52 پوائنٹس کے شاندار کھیل سے سپرز کی ڈلاس میورکس پر کامیابیامریکی ریاست کولوراڈو میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہیسوات: خاتون سے زیادتی میں ملوث 2 پولیس اہلکار گرفتار، مقدمہ درجفیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کو ایم پی او کیسز سننے سے روک دیاآبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز اور ٹگ بوٹ میں آگ لگ گئی، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰبینک آف پنجاب نے پاکستان کا پہلا ماسٹر کارڈ ورلڈ ایلیٹ متعارف کرا دیاآٹزم کے شکار افراد میں پارکنسنز کے مرض کا خطرہ دو گنا زیادہ ہونے کا انکشافوی رات کوہلی کی شاندار بیٹنگ، بھارت نے نیوزی لینڈ کو پہلے ون ڈے میں شکست دے دییو ایف سی کے سربراہ ڈانا وائٹ کا اسلام مخاچیف کو فائٹس بڑھانے کا مشورہ
صحت

پاکستان میں رواں سال کا نواں پولیو کیس ضلع خیبر سے رپورٹ

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق رواں سال سامنے آنے والے نو کیسز میں سے سات کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔

پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور رواں برس کا نواں پولیو کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے اس کیس کی تصدیق کرتے ہوئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

نیشنل ای او سی کے مطابق رواں سال اب تک ملک بھر سے پولیو کے مجموعی طور پر 9 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ ان نو کیسز میں سے 7 کا تعلق خیبر پختونخوا جبکہ 2 کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ایک لا علاج مرض ہے تاہم ویکسین کے بروقت استعمال سے بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس وقت ملک کے 97 منتخب اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم جاری ہے جس کے دوران 5 سال سے کم عمر تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے مزید بتایا کہ پاکستان اور افغانستان میں انسدادِ پولیو کی مہم بیک وقت چلائی جا رہی ہے۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلائیں اور حفاظتی ٹی کہ جات کا کورس بھی مکمل کروائیں۔

پولیو کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر جاری کوششوں کے تحت ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ نیشنل ای او سی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پولیو وائرس کے ماحولیاتی نمونوں کو ختم کرنے کے لیے ایک قابلِ عمل اور پائیدار لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

صحت کے حکام کے مطابق انسدادِ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ دیگر حفاظتی ٹی کہ جات کا کورس مکمل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس سے بچوں کی قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ضلع خیبر میں رپورٹ ہونے والے اس تازہ ترین کیس کے بعد مقامی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ اس علاقے میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو کے خاتمے کے قومی مشن میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون کریں۔

پاکستان اور افغانستان میں پولیو کے کیسز کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ سرحد پار وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکے۔ دونوں ممالک کے درمیان انسدادِ پولیو مہم کا بیک وقت انعقاد اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق پولیو وائرس کا خاتمہ صرف ویکسینیشن کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس لیے مہم کے دوران کسی بھی بچے کو قطرے پلانے سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے۔ 97 منتخب اضلاع میں جاری مہم کا مقصد پولیو کے کیسز کی تعداد کو صفر تک لانا ہے۔

حکومت کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لیے جاری مہمات میں فرنٹ لائن ورکرز کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے جو گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلا رہے ہیں۔ ان ورکرز کی حفاظت اور سہولت کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پولیو کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحت کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت نہ برتیں۔ پولیو کے قطرے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کا واحد ذریعہ ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

صحت کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں