مواد پر جائیں
پیر، 2 نومبر 2026 22 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
کراچی: صدر میں مسافر بس کی ٹکر سے سڑک کنارے کھڑا شہری جاں بحقسعودی عرب کی جانب سے پاکستانی افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنے میں اضافہدماغی سرطان کے علاج میں اہم پیشرفت، نئی تجرباتی تکنیک تیارکیمی اینٹونیلی فارمولا ون کے کم عمر ترین عالمی چیمپئن بن گئےامریکی ریاست فلوریڈا میں نجی طیارہ گر کر تباہ، 9 افراد ہلاکمیکائیل علی بیگ نے آئی ٹی ایف جے 100 ٹینس ٹورنامنٹ کا ٹائٹل جیت لیاکراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی سست روی پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کا اظہارِ تشویشگلگت بلتستان کا 79 واں یومِ آزادی، سیاسی قیادت کا خراجِ تحسینفرانس: پولیس پر پیٹرول بم حملے کی تحقیقات شروع، اقدامِ قتل کا مقدمہ درجایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کے قیام کیلئے تحریک چلانے کا اعلانکوئٹہ میں گیس بلوں میں اضافے کی وجوہات اور شکایات کے ازالے کیلئے اقداماتحکومت کا پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے لیے نئے فارمولے کا اطلاقامریکی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹ رہنما کی ریپبلکن امیدوار کی حمایتیوکرین میں روسی حملوں سے بجلی کا نظام درہم برہم، درجنوں علاقے تاریکی میں ڈوب گئےجی سکل کی 32 جی بی ڈی ڈی آر 5 ریم کی قیمت میں کمی کا اعلانانگلش پریمیئر لیگ: آرسنل نے لیورپول کو شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن سنبھال لیاداکارہ جویریہ جمشید رشتہ ازدواج میں منسلک، سوشل میڈیا پر چرچےبال ٹی مور ریونز کے کوارٹر بیک لامر جیکسن انگوٹھے کی انجری کے باعث میچ سے باہرکراچی کو جیل قرار دینے پر حنا پرویز بٹ کی حنا الطاف کو لاہور آنے کی دعوتسعودی عرب کی جانب سے پاکستانی ورکرز کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی
لاہور

محکمہ اوقاف کے تین اہلکاروں کی اپیلیں مسترد، مالی بے ضابطگیوں پر سزائیں برقرار

چیف سیکرٹری پنجاب نے محکمہ اوقاف کے تین اہلکاروں کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے مالی بے ضابطگیوں پر سزائیں برقرار رکھیں۔

محکمہ اوقاف کے تین اہلکاروں کی اپیلیں مسترد، مالی بے ضابطگیوں پر سزائیں برقرار

محکمہ اوقاف اور مذہبی امور کے اندرونی نظام کو شفاف بنانے اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی سطح پر سخت فیصلے کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے تاکہ سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے تازہ ترین احکامات میں حکومت نے بدعنوانی اور غفلت کے مرتکب سرکاری ملازمین کے خلاف زیر التوا تمام اپیلوں پر دوٹوک موقف اپناتے ہوئے انہیں خارج کر دیا ہے۔

اس تمام معاملے کے پس منظر میں صوبائی دارالحکومت کے انتظامی حکام اور متعلقہ محکموں کی جانب سے کی جانے والی جانچ پڑتال بتاتی ہے کہ سرکاری امور میں مبینہ بے ضابطگیاں کسی بھی صورت قابلِ برداشت نہیں ہیں۔ اسی پالیسی کے تحت چیف سیکرٹری پنجاب نے محکمہ اوقاف کے تین مختلف اہلکاروں کی جانب سے دائر کی جانے والی تمام محکمانہ اپیلوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

مسترد کی جانے والی ان اپیلوں کا تعلق براہ راست مالی بدعنوانی، فنڈز میں خوردبرد اور سروس کے دوران اختیارات کے غلط استعمال جیسے سنجیدہ نوعیت کے مقدمات سے ہے۔ ان مجرمانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے نتیجے میں محکمے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا جس پر یہ محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

جن افراد کی اپیلیں مسترد کی گئی ہیں ان میں محکمہ اوقاف کے سابق مینیجر اوکاڑہ شفقت عباس اور جونیئر کلرک زوار حسین کے نام نمایاں طور پر شامل ہیں۔ ان دونوں افراد پر اپنے دورِ ملازمت میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔

انکوائری کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ اوکاڑہ اوقاف سرکل میں کروڑوں روپے کی بھاری رقم کی مالی بے ضابطگیوں کا بڑا سکینڈل رونما ہوا تھا۔ ذرائع اور رپورٹس کے مطابق اس مخصوص سرکل میں چھ کروڑ دو لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیاں کی گئی تھیں جو کہ ایک بہت بڑا مالیاتی گھپلہ ہے۔

اوکاڑہ سرکل کے علاوہ یہ بدعنوانی کا دائرہ کار دیگر تاریخی مقامات تک بھی پھیلا ہوا تھا جہاں سے سرکاری خزانے کو مسلسل نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔ چنانچہ دربار بابا بلھے شاہ قصور میں ہونے والی نقد عطیات اور روزانہ کی بنیاد پر آنے والی آمدن کی وصولی کے دوران بھی شدید بے ضابطگیاں پائی گئیں۔

دربار بابا بلھے شاہ قصور کے معاملات میں زائرین کی طرف سے دیے جانے والے نقد عطیات کو باقاعدہ سرکاری کھاتوں میں جمع کرانے کے بجائے خوردبرد کرنے کے شواہد ملے تھے۔ ان تمام مالیاتی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے بعد متعلقہ حکام نے انکشاف کیا کہ محکمے کی آمدن کو چھپانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔

مذکورہ بالا تمام الزامات کے ثابت ہونے پر مجرموں کے خلاف محکمانہ قوانین کے تحت سخت ترین سزاؤں کا فیصلہ سنایا گیا تھا جسے اب حتمی طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ ان سزاؤں کے نفاذ سے کرپٹ عناصر کی صفوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور انتظامیہ کا پختہ عزم ظاہر ہوتا ہے۔

سابق مینیجر اوکاڑہ شفقت عباس اور جونیئر کلرک زوار حسین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی سابقہ سروس کے پانچ پانچ سال ضبط کرنے کی سزا کو بھی بحال رکھا گیا ہے۔ سروس کے سال ضبط کرنے کی یہ سزا سرکاری ملازمین کے لیے ایک انتہائی کڑی اور عبرت ناک سزا مانی جاتی ہے۔

محکمہ اوقاف کے جاری کردہ وضاحتی احکامات کے مطابق، ان تینوں مجرم اہلکاروں سے مجموعی طور پر پچیس لاکھ تیئیس ہزار سات سو پینتیس روپے کی کُل رقم بطور ریکوری وصول کرنے کی سزائیں بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ رقم وہ ہے جو مبینہ طور پر غبن کی گئی تھی اور اب اسے سرکاری خزانے میں واپس جمع کرایا جائے گا۔

محکمہ اوقاف کے ذمہ داران کا اس پورے واقعے پر کہنا ہے کہ سرکاری آمدن کے تحفظ میں کسی بھی قسم کی غفلت، کوتاہی یا لاپرواہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ادارے کے اندر احتساب کا یہ بے رحم اور شفاف عمل آئندہ بھی بلاتعطل جاری رہے گا تاکہ کسی کو ایسی جرات نہ ہو۔

اس طرح کے تادیبی اقدامات کا بنیادی مقصد سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے رجحان کا مکمل خاتمہ کرنا اور کرپٹ عناصر کے حوصلے پست کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف محکمے کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام کا سرکاری اداروں کے نظام اور ان کی شفافیت پر اعتماد بھی بحال رہے گا۔

اس موضوع پر مزید خبریں

لاہور کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں