مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026 21 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
پاکستان نے عمان کو شکست دے کر ہانگ کانگ سکسز پلیٹ ٹائٹل جیت لیااپ ڈیٹ: مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں سے امریکی تنصیبات کو اربوں ڈالر کا نقصانبائنانس کا ہیکنگ کے بعد رقوم کی واپسی کا عمل شروع، 95 فیصد اثاثے بحالالاسکا سینیٹ انتخاب: امیدواروں کے ناموں میں مماثلت پر تنازعہ شدت اختیار کر گیافخر زمان کی سنچری، پاکستان نے سہ فریقی سیریز کا ٹائٹل اپنے نام کر لیاپاکستان آرمی ڈرون ٹیکنالوجی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے: ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان کرکٹ بورڈ: سینٹرل کنٹریکٹس میں نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرنے کا فیصلہحکومتی پالیسیوں سے کاٹن اسٹیک ہولڈرز میں مایوسی بڑھ گئی، کاٹن جنرز فورممنڈی بہاؤالدین: انسانی اسمگلنگ میں 16 سال سے مطلوب اشتہاری ملزم گرفتاربیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے جانے والے طلبہ بینک اکاؤنٹ کیسے کھولیں؟بھارتی گلوکار ہمیش ریشمیا کا بین الاقوامی البم کے لیے 15 انگریزی گانے تیار کرنے کا انکشافغزہ میں اسرائیلی ڈرون حملے، پولیس اہلکاروں سمیت 8 فلسطینی شہیدپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنجلاہور سمیت پنجاب بھر میں موسم سرد ہونے لگا، درجہ حرارت میں کمیلاہور ایئرپورٹ: نیدرلینڈز کے جعلی ویزوں پر بیرون ملک جانے والے دو مسافر گرفتارپاکستان میں پولیو کا آٹھواں کیس رپورٹ، انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہوگیانقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر آئیکت کشمیر کے سپردہاردک پانڈیا نے مسٹر بیسٹ کا بیس بال چیلنج جیت کر ایک لاکھ ڈالر انعام حاصل کر لیاخیبر پختونخوا: مخدوش اسکول عمارتوں سے طلبہ کی فوری منتقلی کا حکمپین پیسیفک اوپن: ڈیانا شنائیڈر نے لیلیٰ فرنینڈس کو شکست دے کر ٹائٹل جیت لیا
لاہور

لاہور میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے رکشہ ڈرائیونگ ٹریننگ پروگرام شروع

ٹریفک پولیس نے یونیورسٹیوں کے تعاون سے خواتین کو رکشہ چلانے کی تربیت دینا شروع کر دی ہے۔

لاہور میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے رکشہ ڈرائیونگ ٹریننگ پروگرام شروع

لاہور کے شہریوں کے لیے روزگار کے نئے اور منفرد مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں ٹریفک پولیس کی جانب سے ایک انتہائی خوش آئند قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس فلاحی اقدام کا بنیادی مقصد خواتین کو معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور انہیں معاشرے کا ایک مفید اور فعال رکن بنانا ہے۔

موجودہ دور میں معاشی خودمختاری ہر فرد کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، اسی امر کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک پولیس نے یہ خصوصی تربیتی پروگرام ترتیب دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت خواتین کو ڈرائیونگ کے جدید اور محفوظ اصول سکھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود اعتمادی کے ساتھ سڑکوں پر سفر کر سکیں۔

جامعات اور تعلیمی اداروں کے باہمی اشتراک اور تعاون سے شروع کیے جانے والے اس پروگرام کو عوامی سطح پر بھی بے حد سراہا جا رہا ہے۔ اس اشتراک کا مقصد زیادہ سے زیادہ طالب علموں اور نوجوان خواتین تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی حاصل کر سکیں۔

ابتدائی مرحلے کے دوران ٹریفک پولیس کے منظور شدہ تربیتی اداروں میں خواتین کو خصوصی توجہ دی گئی تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اس نئے شعبے کو اپنا سکیں۔ ماہر اور تجربہ کار انسسٹرز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سیکھنے کا عمل انتہائی دوستانہ اور آسان ہو۔

موصولہ مصدقہ تفصیلات کے مطابق، بحریہ ٹاؤن میں قائم ٹریفک پولیس کے ڈرائیونگ اسکول میں خواتین کو رکشہ چلانے کی عملی تربیت فراہم کی گئی۔ اس اسکول میں جدید سہولیات کی فراہمی نے سیکھنے کے عمل کو مزید موثر اور تیز تر بنا دیا ہے۔

بحریہ ٹاؤن کے ساتھ ساتھ مناواں میں واقع ٹریفک پولیس کے ڈرائیونگ اسکول میں بھی اس کورس کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا جہاں خواتین کو پروفیشل ڈرائیورز کی نگرانی میں تربیت دی گئی۔ دونوںمراکز میں خواتین نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔

اس تربیتی پروگرام کے پہلے مرحلے کے دوران مجموعی طور پر چونتیس خواتین نے کامیابی کے ساتھ رکشہ چلانے کی تربیت مکمل کی۔ یہ تمام خواتین اب نہ صرف ٹریفک قوانین سے مکمل طور پر آگاہ ہیں بلکہ عملی طور پر رکشہ چلانے کی ماہر بھی بن چکی ہیں۔

تربیت کی کامیابی سے تکمیل پر چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) سید عبدالرحیم شیرازی نے ان تمام خواتین سے خصوصی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے خواتین کے بلند حوصلے اور عملی میدان میں قدم رکھنے کے عزم کی کھل کر تعریف کی۔

ملاقات کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف ٹریفک آفیسر سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ تربیت مکمل کرنے والی یہ تمام خواتین اب خود رکشہ چلا کر باعزت روزگار کما سکیں گی۔ یہ قدم ان کے خاندانوں کے لیے بھی معاشی استحکام کا باعث بنے گا۔

سی ٹی او سید عبدالرحیم شیرازی نے اپنے خیالات کا اظہار جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ جب معاشرے کی نصف آبادی یعنی خواتین معاشی طور پر بااختیار ہوں گی تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی آئے گی۔

ٹریفک پولیس کے اس اقدام سے نہ صرف خواتین میں خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی ایک نیا رجحان پیدا ہوگا۔ اس سے شہر میں خواتین مسافروں کے لیے محفوظ سفر کی سہولیات میں بھی بہتری متوقع ہے۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے فلاحی پروگراموں کا دائرہ کار مستقبل میں مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سے مستفید ہو سکیں۔ اس نوعیت کے تربیتی کورسز سے ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

اس موضوع پر مزید خبریں

لاہور کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں