نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ملتان سرکل نے ایک کارروائی کے دوران دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے شہری کی رقوم کامیابی سے واپس دلوا دی ہیں۔ یہ اقدام اس ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عوام کے مالیاتی تحفظ کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
متاثرہ شہری نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ نامعلوم افراد نے ان کا موبائل فون ہیک کر لیا تھا جس کے بعد ان کے بینک اکاؤنٹ سے بیس لاکھ روپے کی خطیر رقم غیر قانونی طور پر نکال لی گئی تھی۔
موبائل ہیکنگ اور اتنی بڑی رقم کی چوری کے بعد شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہو گیا تھا کیونکہ اسے اپنی محنت کی کمائی کے ضائع ہونے کا خدشہ لاحق ہو چکا تھا جس پر فوری قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
شہری نے اس مالیاتی فراڈ کے خلاف فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ملتان سرکل سے باقاعدہ رابطہ کیا اور اپنی درخواست جمع کروائی تاکہ انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
این سی سی آئی اے ملتان سرکل کے حکام نے موصول ہونے والی درخواست پر فوری ایکشن لیتے ہوئے جدید تکنیکی ذرائع اور پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لایا اور ملزمان تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں شروع کیں۔
ادارے کی ٹیم نے انتہائی پھرتی اور جانفشانی سے کارروائی کرتے ہوئے ہیکرز کے چنگل سے رقوم کو نکالا اور بالآخر متاثرہ شہری کے بیس لاکھ روپے کامیابی کے ساتھ ریکور کر کے اسے واپس کر دیے۔
رقم کی واپسی کے بعد متاثرہ شہری نوید صدیقی نے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں ادارے کے کردار کو سراہا اور ڈی جی این سی سی آئی اے ملتان سرکل سمیت وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
متاثرہ شہری کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ اگر ادارے کی جانب سے بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو شاید ان کی یہ بڑی رقم کبھی واپس نہ مل پاتی اور وہ مالی طور پر تباہی کا شکار ہو جاتے۔
یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان میں سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے کس قدر مستعدی سے کام کر رہے ہیں اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنا رہے ہیں۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ملک بھر میں اس نوعیت کے مالیاتی فراڈز، آن لائن دھوکہ دہی اور ہیکنگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے دن رات مصروف عمل ہے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں اس قسم کے جرائم دن بدن پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے نہ صرف اداروں کی مضبوطی بلکہ عوام کا بھی ہوشیار رہنا انتہائی ضروری امر ہے۔
شہریوں کو ہمیشہ اس بات کی تلقین کی جاتی ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز، بینک اکاؤنٹس اور ذاتی نوعیت کی معلومات کی سیکیورٹی کا خاص خیال رکھیں اور کسی بھی مشکوک کال یا پیغام پر عمل نہ کریں۔
اگر کوئی شخص اس قسم کے کسی آن لائن فراڈ یا ہیکنگ کا شکار ہو جائے تو اسے گھبرانے کے بجائے فوری طور پر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں یا این سی سی آئی اے سے رابطہ کرنا چاہیے۔
حکومت پاکستان اور وزارت داخلہ کی جانب سے بھی سائبر کرائمز کے تدارک کے لیے اداروں کو مزید وسائل اور اختیارات فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کی شکایات کا ازالہ بروقت کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں