مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:17
بریکنگ
سعودی عرب: امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سکیورٹی الرٹ جاریپشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیاراپر کرم اور غوز گڑھی میں پاک فوج کا افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جوابمغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہپاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جوابی وارہنگری میں پاکستان کا پہلا رائس فیسٹیول، باسمتی چاول یورپی منڈیوں میں متعارفعالمی تنازعات اور انسانی المیہ: جنگ کے بعد کیا بچتا ہے؟مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر پیپلز پارٹی کی شدید تنقیدمصری صدر عبدالفتاح السیسی کا 2030 میں اقتدار چھوڑنے کا حتمی اعلانایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کیلئے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰلیاری: ثقافتی ورثہ، سیاسی شعور اور ادبی روایت کا گہوارہسانحہ کارساز کے 19 برس مکمل، شہدا کی یاد میں کراچی میں تقریب کا انعقادمکہ دفاعی معاہدہ: ترکی کی جانب سے سعودی عرب کو عسکری معاونت کی تیاریمغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فرانسیسی میئر اور یورپی سفارت کاروں پر حملہامریکا: پرانے سامان کی خریداری کے دوران دوسری جنگِ عظیم کے فعال بم برآمدستاروں کی روشنی میں آپ کا آنے والا ہفتہ کیسا رہے گا؟سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات؛ امریکا اور برطانیہ کی شہریوں کو سفری ہدایات جاریخیبر پختونخوا: نادرا کے 43 نئے سہولت مراکز کا قیام، شہریوں کو بڑی ریلیفسان فرانسسکو میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا انعقاد، ٹیکنالوجی میں تعاون پر زور
دنیا

ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کیلئے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران حوثی تنظیم کو ڈرون، میزائل اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کیلئے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

ایک معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے اہداف کی نشاندہی اور اہم انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے حوثیوں کو جدید ڈرون، میزائل، ریڈار سسٹم اور دیگر عسکری سازوسامان کی فراہمی جاری ہے۔ اس معاونت کے نتیجے میں حوثی تنظیم سعودی عرب کے اندر مؤثر اور جدید حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

امریکی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران حوثی تنظیم کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود ہیں اور انہیں جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی عسکری حکمت عملی میں آنے والی تبدیلی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں ایران سے براہ راست رہنمائی مل رہی ہے۔ یہ تعلق محض سرپرستی تک محدود نہیں بلکہ تزویراتی تعاون پر مبنی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے فراہم کردہ میزائلوں کی ممکنہ رینج 1200 میل تک ہو سکتی ہے، جس سے سعودی عرب اور اسرائیل کا پورا علاقہ ان کی زد میں آ سکتا ہے۔

یہ صورتحال امریکی انتظامیہ اور خلیجی ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششیں ایران اور حوثیوں کے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ حوثی تنظیم اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیتی ہے اور بہت سے فیصلے خود کرتی ہے۔ وہ اپنے کچھ ہتھیار مقامی طور پر تیار کرنے کے ساتھ ساتھ چین سے بھی پرزے حاصل کرتے ہیں۔

حوثیوں کی ترجیحات بنیادی طور پر یمن کے اندرونی معاملات سے جڑی ہوئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ رواں موسم گرما تک یہ تنظیم امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سے کسی حد تک لاتعلق رہی تھی۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب پر حملوں میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران یمن کے تنازع میں کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران یمن میں پُرامن حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور حوثیوں کے درمیان تعلقات پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ خطے کے ممالک اس صورتحال کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔

سعودی عرب اور یمن میں حوثیوں کے مخالف اتحاد کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً ایران پر حوثیوں کی پشت پناہی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم ایران ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

مستقبل میں یمن کی صورتحال اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں، اس کا انحصار فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات کے عمل پر ہوگا۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں