مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:17
بریکنگ
فرانس اور البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، متعدد عمارتیں نذرِ آتشبھارت: کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 17 افراد ہلاکسعودی عرب: امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سکیورٹی الرٹ جاریپشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیاراپر کرم اور غوز گڑھی میں پاک فوج کا افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جوابمغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہپاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جوابی واروزارت اطلاعات نے امریکی بحریہ کے پاکستانی حدود سے کارروائیوں کے دعوے مسترد کر دیےاسلام آباد کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گینادرا کا جدید موبائل رجسٹریشن سسٹم متعارف، شہریوں کو دہلیز پر سہولیات ملیں گیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا کو عہدے سے ہٹا دیافرانس میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر احتجاج، لاکھوں شہری سڑکوں پرہنگری میں پاکستان کا پہلا رائس فیسٹیول، باسمتی چاول یورپی منڈیوں میں متعارفعالمی تنازعات اور انسانی المیہ: جنگ کے بعد کیا بچتا ہے؟مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر پیپلز پارٹی کی شدید تنقیدمصری صدر عبدالفتاح السیسی کا 2030 میں اقتدار چھوڑنے کا حتمی اعلانایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کیلئے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰلیاری: ثقافتی ورثہ، سیاسی شعور اور ادبی روایت کا گہوارہسانحہ کارساز کے 19 برس مکمل، شہدا کی یاد میں کراچی میں تقریب کا انعقاد
دنیا

فرانس میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر احتجاج، لاکھوں شہری سڑکوں پر

فرانس کے مختلف شہروں میں مہنگائی، تعلیمی اخراجات اور سرکاری خدمات کے معیار میں کمی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

فرانس میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر احتجاج، لاکھوں شہری سڑکوں پر

فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوامی سہولیات کے فقدان کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک نے جنم لیا ہے، جس کے باعث پیرس سمیت ملک کے درجنوں شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ احتجاجی سلسلہ گزشتہ ہفتے سے شروع ہوا جو اب شدت اختیار کر چکا ہے۔

اس تحریک کا آغاز گزشتہ ماہ پیرس کے شمالی مضافاتی علاقوں کے سرکاری ہائی اسکولوں سے ہوا تھا، جہاں طلبہ نے اساتذہ کی کمی، غیر حاضری اور اسکولوں کی ناقص صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ طلبہ تحریک ایک وسیع عوامی احتجاج میں تبدیل ہو چکی ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور عدم مساوات نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ عوام سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں اور عوامی خدمات کے گرتے ہوئے معیار پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

دارالحکومت پیرس میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، خاص طور پر شانزے لیزے اور آرک ڈی ٹریومف کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ حکام نے ان تاریخی مقامات کو مظاہرین کے لیے مختص کیے گئے دو سرکاری احتجاجی راستوں سے الگ رکھا ہے۔

احتجاج کے دوران مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ کچھ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

مارسیے سمیت دیگر شہروں میں مظاہرین نے سڑکیں بند کر دیں اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگانے جیسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور عوامی نقل و حمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔

احتجاج میں شریک 19 سالہ طالبہ لولا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روزمرہ کے اخراجات عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہتر حالاتِ زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں، تاہم ان مطالبات کے جواب میں ہمیں تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لولا نے مزید کہا کہ طلبہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے اور بہتر تعلیمی ماحول کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عوام کی جانب سے سماجی تحفظ کے روایتی نظام کی زبوں حالی پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کو اپنی صدارتی مدت کے آخری حصے میں سنگین سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک میں سیاسی تقسیم اور بکھرا ہوا منظرنامہ حکومت کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے، جس سے انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے بڑھتے ہوئے قومی قرضوں پر قابو پانے کی کوششیں تاحال بار آور ثابت نہیں ہو سکیں۔ اس معاشی صورتحال کے باعث فرانسیسی بانڈز کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور حکومتی قرض لینے کی لاگت گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

فرانس کے وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو نے مظاہروں کے دوران ممکنہ شدید بدامنی کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے بائیں بازو کی اپوزیشن جماعت 'لا فرانس انسومیز' پر احتجاج کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جسے اپوزیشن نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر عوام کے معاشی مطالبات پر توجہ نہ دی تو یہ تحریک مزید پھیل سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر احتجاجی گروپس کی جانب سے مزید مظاہروں کی اپیلیں کی جا رہی ہیں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔

فرانسیسی حکومت اس وقت ایک دوہرے دباؤ میں ہے، جہاں ایک طرف اسے معاشی بحالی کے لیے سخت اقدامات کرنے ہیں، تو دوسری طرف عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ مستقبل قریب میں مزید مظاہروں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں