مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:57
بریکنگ
بھارت: کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 17 افراد ہلاکسعودی عرب: امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سکیورٹی الرٹ جاریپشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیاراپر کرم اور غوز گڑھی میں پاک فوج کا افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جوابمغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہپاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جوابی واروزارت اطلاعات نے امریکی بحریہ کے پاکستانی حدود سے کارروائیوں کے دعوے مسترد کر دیےاسلام آباد کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گینادرا کا جدید موبائل رجسٹریشن سسٹم متعارف، شہریوں کو دہلیز پر سہولیات ملیں گیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا کو عہدے سے ہٹا دیافرانس میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر احتجاج، لاکھوں شہری سڑکوں پرہنگری میں پاکستان کا پہلا رائس فیسٹیول، باسمتی چاول یورپی منڈیوں میں متعارفعالمی تنازعات اور انسانی المیہ: جنگ کے بعد کیا بچتا ہے؟مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر پیپلز پارٹی کی شدید تنقیدمصری صدر عبدالفتاح السیسی کا 2030 میں اقتدار چھوڑنے کا حتمی اعلانایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کیلئے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰلیاری: ثقافتی ورثہ، سیاسی شعور اور ادبی روایت کا گہوارہسانحہ کارساز کے 19 برس مکمل، شہدا کی یاد میں کراچی میں تقریب کا انعقادمکہ دفاعی معاہدہ: ترکی کی جانب سے سعودی عرب کو عسکری معاونت کی تیاری
دنیا

عالمی تنازعات اور انسانی المیہ: جنگ کے بعد کیا بچتا ہے؟

دنیا بھر میں جاری جنگیں صرف سیاسی مقاصد کا حصول نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔

عالمی تنازعات اور انسانی المیہ: جنگ کے بعد کیا بچتا ہے؟

موجودہ دور میں دنیا کے مختلف خطوں میں جاری کشیدگی نے انسانیت کو ایک سنگین بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ غزہ سے لے کر یوکرین اور سوڈان تک، جنگوں کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ صرف جغرافیائی حدود کا تنازع نہیں بلکہ عام انسانوں کی بربادی کی داستان ہے۔

جنگ کے آغاز کا اعلان اکثر ایوانوں میں طاقت کے زور پر کیا جاتا ہے، مگر اس کا اختتام کسی اعلامیے سے نہیں بلکہ انسانی لاشوں اور اجڑے ہوئے گھروں پر ہوتا ہے۔ تاریخ فاتحین کے نام تو محفوظ کر لیتی ہے، لیکن ان چیخوں کو فراموش کر دیتی ہے جو جنگ کی نذر ہو جاتی ہیں۔

یمن، سوڈان اور دیگر متاثرہ علاقوں سے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ 14 اکتوبر 2026 کو یمن سے آنے والی خبریں بتاتی ہیں کہ وہاں تازہ لڑائی نے طبی مراکز کو زخمیوں سے بھر دیا ہے اور لاکھوں افراد تک امداد کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔ سوڈان میں جنگ، خشک سالی اور خوراک کی قلت نے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو عدم تحفظ سے دوچار کر رکھا ہے، جو محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی المیہ ہے۔

اکثر جنگوں کو قومی سلامتی، سرحدوں کے تحفظ، مذہب، آزادی یا قومی وقار کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ ہر ملک کو اپنی خودمختاری کے تحفظ کا حق حاصل ہے، لیکن طاقتور ممالک کے بیان کردہ مقاصد اور زمینی حقائق کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔

عالمی طاقت کے موجودہ نظام میں اسلحہ محض دفاع کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ جب بڑی طاقتیں اپنے حریفوں کو کمزور کرنے، اہم تجارتی راستوں پر کنٹرول قائم رکھنے، وسائل تک رسائی حاصل کرنے یا اپنے اتحادیوں کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے کمزور ممالک کو میدانِ جنگ بناتی ہیں، تو اس کی سب سے بڑی قیمت وہاں کے عام شہری ادا کرتے ہیں۔

ہر تنازع کی اپنی ایک الگ تاریخ اور داخلی تضادات ہوتے ہیں، تاہم یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ عالمی طاقت کا غیر مساوی نظام کمزور ممالک کے لیے اپنے فیصلے خود کرنے کی گنجائش کو محدود کر دیتا ہے۔ قرض، اسلحے پر انحصار، اتحاد اور بیرونی دباؤ ان کی خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں۔

اس منظرنامے کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ جنگ کا فیصلہ کرنے والے اور اس کا خمیازہ بھگتنے والے مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ قیادتیں محفوظ مقامات پر بیٹھ کر فیصلے کرتی ہیں، جبکہ ایک مزدور اپنی روزی اور ایک طالب علم اپنا اسکول کھو دیتا ہے۔

جنگ کی تباہی صرف براہِ راست نشانہ بننے والوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات نسلوں تک محیط ہوتے ہیں۔ غربت، نفرت اور انتقام کی آگ کئی دہائیوں تک معاشروں کو عدم استحکام کا شکار رکھتی ہے، جس سے نکلنا ناممکن حد تک مشکل ہو جاتا ہے۔

بین الاقوامی اداروں اور قوانین کی اخلاقی حیثیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ امن صرف قراردادوں سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے اصولوں کا یکساں اطلاق اور خلاف ورزیوں پر جوابدہی ضروری ہے۔ کمزوروں کو خوف سے آزادی ملنا ہی حقیقی امن ہے۔

آج سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، مگر افسوس کہ یہی ترقی تباہی کے مؤثر ذرائع بنانے میں استعمال ہو رہی ہے۔ بیماریوں کے خاتمے کے بجائے جنگی اخراجات پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

یہ صرف معاشی ترجیحات کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری تہذیبی اقدار کا امتحان ہے۔ جنگ شروع کرنے کے لیے ایک غلط فیصلہ کافی ہوتا ہے، لیکن اس کے زخم بھرنے کے لیے انصاف، اعتماد اور تعمیرِ نو کے طویل سفر کی ضرورت ہوتی ہے جو کئی نسلوں پر محیط ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اقوامِ عالم اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں۔ ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ جنگ کے بعد انسان کے پاس کیا بچا؟ کتنے خاندان اپنی چھت برقرار رکھ سکے اور کتنے بچوں کا مستقبل محفوظ رہا؟

کسی بھی جنگ کی سب سے بڑی ناکامی اس وقت سامنے آتی ہے جب فتح کے دعووں کے درمیان انسانی زندگی کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔ دنیا کو اب قتل و غارت کو معمول سمجھنے کے بجائے امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں