ملکی اور عالمی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے نرخوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے قیمتی دھات خریدنے والوں کو بڑی ریلیف ملی ہے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت نیچے آنے کے بعد مقامی سطح پر بھی صرافہ بازاروں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی عوامل اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اس قیمت میں کمی کا سبب بنے ہیں۔
ہفتے کے روز بین الاقوامی مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران فی اونس سونے کی قیمت میں سولہ ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ اس کمی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں سونا چار ہزار ایک سو پینسٹھ ڈالر فی اونس کی سطح پر بند ہوا۔ عالمی مارکیٹ کے اس براہ راست اثر کی وجہ سے پاکستان کے صرافہ بازاروں میں بھی سونا سستا ہو گیا۔
پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں چوبیس کیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک ہزار چھ سو روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کمی کے بعد مقامی سطح پر فی تولہ سونے کی نئی قیمت چار لاکھ انتالیس ہزار چھتیس روپے کی سطح پر آ گئی۔ خریداروں کے لیے یہ کمی ایک خوش آئند خبر کے طور پر سامنے آئی ہے۔
ایک تولہ سونے کے علاوہ دس گرام سونے کے نرخوں میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے۔ مقامی صرافہ بازاروں میں فی دس گرام سونے کی قیمت ایک ہزار تین سو بہتر روپے کی کمی کے بعد تین لاکھ چھہتر ہزار چار سو دو روپے ہو گئی۔ تاجروں کے مطابق اس کمی سے مارکیٹ میں سونے کی خرید و فروخت کے رجحان میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
صرف سونا ہی نہیں بلکہ چاندی کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں بھی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ملکی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی کی قیمت میں اکیاسی روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد نئی قیمت چھ ہزار ایک سو پہتر روپے مقرر کی گئی۔ اسی طرح فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی انہتر روپے کمی کے بعد پانچ ہزار دو سو چورانوے روپے کی سطح پر آگئی۔
پاکستان کے صرافہ بازاروں میں سونے چاندی کے یہ نئے نرخ تمام چھوٹے بڑے شہروں میں فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے۔ صرافہ ایسوسی ایشنز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان قیمتوں میں کمی کا بنیادی سبب بین الاقوامی منڈیوں کے بدلتے ہوئے حالات ہیں۔ معاشی مبصرین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر قیمتوں کے یہ رجحانات آنے والے دنوں میں بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔
سونے کی قیمتوں میں ہونے والی اس کمی نے عام خریداروں اور شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے زیورات خریدنے والوں کو کسی حد تک سکون فراہم کیا ہے۔ پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا تعین عام طور پر بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کے تناسب سے کیا جاتا ہے۔
صرافہ مارکیٹ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اقتصادی منڈیوں کے اندر سرمایہ کاروں کے رویے بدلنے کی وجہ سے قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ پاکستان میں بھی صرافہ بازاروں کا کاروبار عالمی منڈی کے اشارے پر چلتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی مندی کا اثر یہاں فوری طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔
ملک بھر کے صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے بعد خریداروں کا رش بھی کچھ بہتر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے سونے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی ہوئی اس قیمتی دھات کی قیمت میں معمولی کمی بھی معاشرے کے متوسط طبقے کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
کاروباری ہفتے کے اختتام پر صرافہ مارکیٹوں میں ہونے والی اس تنزل کے بعد تاجروں اور خریداروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے کے کاروباری آغاز پر ٹکی ہوئی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ عالمی منڈی آئندہ دنوں میں کیا رخ اختیار کرتی ہے اور آیا پاکستان کے صرافہ بازاروں میں یہ کمی مزید برقرار رہتی ہے یا نہیں۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ہونے والی اس تبدیلی کا اثر صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی صرافہ مارکیٹوں کے اندر قیمتیں اوپر نیچے ہوئی ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ سونے کی مارکیٹ میں اس قسم کے اتار چڑھاؤ دراصل عالمی معیشت میں سرمایہ کاری کے نئے رجحانات کی غمازی کرتے ہیں۔
صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر کی مقامی مارکیٹوں میں سونے کی خرید و فروخت کا نظام مکمل طور پر بین الاقوامی نرخوں سے منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی غیر ملکی صرافہ منڈی میں فی اونس قیمت گھٹتی یا بڑھتی ہے تو اس کا فوری انعکاس مقامی صرافہ بازاروں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی مارکیٹ کا رخ کیا ہوگا، اس کے بارے میں تجارتی حلقے مختلف آراء رکھتے ہیں۔ تاہم موجودہ کمی نے فی الحال صرافہ بازاروں میں ایک نئی ہلچل ضرور پیدا کر دی ہے جس سے تاجر اور گاہک دونوں ہی اپنی آئندہ کی حکمت عملی طے کر رہے ہیں۔




اپنی رائے دیں