سعودی عرب میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور ہوائی اڈوں پر ممکنہ حملوں کے خدشات کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کے لیے نئی سفری ہدایات جاری کر دی ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے جاری کردہ الرٹس میں شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے اور سعودی عرب میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
برطانوی وزارت خارجہ (ایف سی ڈی او) نے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ مملکت میں سکیورٹی حالات کے باعث فضائی سفر متاثر ہونے اور پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی یا منسوخی کا قوی امکان ہے۔ حکام نے شہریوں کو یمن کی سرحد سے دس کلومیٹر کے اندر واقع علاقوں میں ہر قسم کے سفر سے مکمل گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شہری سرکاری سفری ہدایات کے برعکس سفر کرتا ہے تو اس کی ٹریول انشورنس غیر مؤثر ہو سکتی ہے۔ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آنے والے حالیہ واقعات کے تناظر میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ جانے سے قبل سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ ضرور لیں۔
برطانوی حکام نے سعودی عرب سے بیرون ملک جانے کے خواہشمند شہریوں کو متبادل راستوں پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس میں زمینی راستے سے کسی پڑوسی ملک تک پہنچنا اور وہاں سے فضائی سفر اختیار کرنا شامل ہے، تاہم شہریوں کو متعلقہ ممالک میں داخلے کے قواعد و ضوابط کی تصدیق کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
دوسری جانب ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بھی سعودی ہوائی اڈوں پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔ امریکی شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور ہوائی اڈوں پر غیر معمولی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنز تاحال معطل ہیں، جبکہ جدہ اور دمام کے ہوائی اڈوں پر پروازوں میں تاخیر اور کچھ منسوخیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ امریکی حکومت کے ملازمین کو بھی سعودی ہوائی اڈوں کے استعمال کے لیے چیف آف مشن سے پیشگی اجازت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری ہونے والے انتباہات پر مسلسل نظر رکھیں اور ایئرپورٹ روانگی سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائنز سے پرواز کی تازہ ترین صورتحال کی تصدیق کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی برادری کی جانب سے سفری انتباہات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے بھی اپنی حدود کی حفاظت کے لیے سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں اور مسافروں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد سے خطے میں فضائی نقل و حمل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ متعلقہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
برطانیہ اور امریکا کی جانب سے یہ ہدایات ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ دونوں ممالک اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور تازہ ترین صورتحال کے مطابق سفری مشوروں کو اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی باشندوں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی میڈیا اور سفارتی مشنز کی جانب سے جاری کردہ اعلانات پر توجہ دیں۔ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر انحصار کرنا ہی بہتر ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات احتیاطی نوعیت کے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سعودی عرب کی حکومت نے بھی اپنی جانب سے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ ہوائی اڈوں پر معمول کے مطابق سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔
مستقبل میں صورتحال میں بہتری آنے تک شہریوں کو سفری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ پروازوں کی بحالی اور سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے متعلقہ ایئرلائنز اور سفارت خانوں کی ویب سائٹس کو باقاعدگی سے چیک کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔





اپنی رائے دیں