وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت پٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ عالمی منڈی کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
نئے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لٹر کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 386 روپے 30 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ عوام کے لیے ریلیف کے اس اقدام کا اطلاق فوری طور پر عمل میں لایا گیا ہے۔
دوسری جانب ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور یہ 396 روپے 96 پیسے فی لٹر کی سطح پر برقرار رہے گا۔ ڈیزل کی قیمت میں استحکام کو برقرار رکھنے کا فیصلہ ملکی معاشی صورتحال اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو درپیش اخراجات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی یہ نئی قیمتیں 17 اکتوبر سے 19 اکتوبر تک نافذ العمل رہیں گی۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور ملکی کرنسی کی قدر کے مطابق کیا جاتا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں کمی سے عام آدمی کو کچھ حد تک ریلیف ملنے کی توقع ہے، خاص طور پر موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے یہ خبر خوش آئند ہے۔ تاہم ڈیزل کی قیمت برقرار رہنے سے مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر پندرہ دن بعد کیا جاتا ہے، تاہم بعض اوقات ہنگامی بنیادوں پر بھی قیمتوں میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔ اس بار حکومت نے مختصر مدت کے لیے قیمتوں کا تعین کیا ہے تاکہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اثر براہ راست مہنگائی کی شرح پر پڑتا ہے، کیونکہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں کمی سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا یہ اقدام عوامی حلقوں میں مثبت طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ملک بھر میں پٹرول پمپس کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ نئی قیمتوں کا اطلاق یقینی بنائیں۔ کسی بھی مقام پر زائد قیمت وصول کرنے کی صورت میں اوگرا کے ضوابط کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں بھی متحرک کر دی گئی ہیں۔
پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر پٹرول اور ڈیزل درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتوں کا اثر براہ راست ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے تاکہ ان پر بوجھ کم ہو سکے۔
آئندہ چند روز میں عالمی منڈی کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے قیمتوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ حکومتی پالیسی کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی شرح بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس کا تعین وزارت خزانہ کی مشاورت سے کیا جاتا ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں اور سرکاری نرخوں پر ہی ایندھن کی خریداری کو یقینی بنائیں۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قیمتوں کے نفاذ کی نگرانی کرے۔
ملک کے مختلف شہروں میں پٹرول کی نئی قیمتوں کا اطلاق ہو چکا ہے اور پٹرول پمپس پر نئی قیمتوں کے بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ شہری حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مزید ریلیف کی امید بھی ظاہر کر رہے ہیں۔
مستقبل میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کے لیے حکومت توانائی کے متبادل ذرائع اور مقامی پیداوار بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ملکی درآمدی بل میں کمی لانا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔





اپنی رائے دیں