یمن کے شہر عدن میں واقع بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب جمعہ کے روز دو زوردار میزائل حملے ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں کی آوازیں اتنی شدید تھیں کہ دور دور تک سنی گئیں اور مقامی صحافیوں نے بھی ان دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔
حوثی باغیوں نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا بنیادی ہدف ایئرپورٹ کے نزدیک قائم سعودی فوجی کمانڈ سینٹر تھا۔ یہ مرکز سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے زیر انتظام علاقے میں واقع ہے۔
عدن شہر کو یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا عبوری دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔ حوثی باغی طویل عرصے سے یمن کے شمالی حصوں پر قابض ہیں اور یمنی حکومت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
میزائل گرنے کے اس تازہ واقعے کے بعد تاحال کسی قسم کے جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ سیکیورٹی حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس حملے سے ایک روز قبل بھی عدن میں صدارتی محل کے احاطے پر حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔ یمنی حکام کے مطابق اس گزشتہ واقعے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوئے تھے۔
یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ حوثی باغی وقتاً فوقتاً سعودی عرب کی حدود اور یمن میں حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کرتے رہتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری یمن میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے تاہم فریقین کے مابین جاری لڑائی کے باعث مذاکرات کی کوششیں تاحال بار آور ثابت نہیں ہو سکیں۔ خطے میں کشیدگی کے باعث انسانی بحران بھی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔
سعودی اتحادی افواج کی جانب سے حوثیوں کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے جوابی کارروائیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ گزشتہ عرصے کے دوران اتحادی افواج نے حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی حکومت اور سعودی اتحاد کا موقف رہا ہے کہ حوثی باغی خطے میں امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ دوسری جانب حوثی اپنی کارروائیوں کو دفاعی اور مزاحمتی قرار دے کر جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عدن ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے اس تازہ حملے نے ایک بار پھر یمن کی سیکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس حملے کی مذمت کی توقع کی جا رہی ہے۔
علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری اس تنازع کا حل صرف سیاسی مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔ تاہم جب تک فریقین جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوتے، تب تک شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق رہیں گے۔
عدن میں موجود سیکیورٹی فورسز نے ایئرپورٹ کے اطراف کے علاقوں میں گشت بڑھا دیا ہے تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔ شہر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
مستقبل قریب میں یمن کی صورتحال پر عالمی طاقتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عام شہریوں کو جنگی کارروائیوں سے دور رکھیں اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکیں۔




اپنی رائے دیں