غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے سابق اہلکاروں کی جانب سے کیے گئے انکشافات پر مبنی دستاویزی فلم 'نازا' نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فلم میں چودہ ایسے سابق فوجیوں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی شہادتیں شامل ہیں جنہوں نے غزہ میں براہِ راست آپریشنز میں حصہ لیا تھا۔
فلم میں شامل کرداروں نے اپنی شناخت چھپا کر ان ہولناک واقعات کا ذکر کیا ہے جو غزہ میں ان کی تعیناتی کے دوران پیش آئے۔ ان گواہیوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں، انسانی ڈھال کے استعمال اور رہائشی عمارتوں کو بلاوجہ تباہ کرنے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔
ایک سابق فوجی نے انکشاف کیا کہ جبالیہ کیمپ میں ایک ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے تین سو سے زائد عام شہریوں کی ہلاکت کو ایک معمولی سودا سمجھ کر قبول کر لیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آپریشنز کے دوران شہریوں کی زندگیوں کو کس قدر غیر اہم سمجھا گیا۔
دیگر گواہیوں میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح فلسطینیوں کو گرفتار کر کے انہیں فوجی وردیاں پہنائی گئیں اور پھر انہیں خطرناک سرنگوں یا مشتبہ گھروں میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ یہ عمل بین الاقوامی قوانین کے تحت انسانی ڈھال کے استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔
فلم میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح صحافیوں کو نشانہ بنا کر بعد میں انہیں دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ ناصر اسپتال پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں پہلے دعویٰ کیا گیا کہ وہ دہشت گرد تھے، لیکن بعد میں ان کی شناخت صحافیوں کے طور پر ہوئی۔
اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ حکام کی جانب سے فلم کے ہدایت کاروں کو دھمکیاں دی گئی ہیں اور اسرائیل میں اس کی نمائش کو سنگین جرم قرار دینے کا عندیہ دیا گیا ہے، جس سے فلم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
جرمن اخبار 'دیر شپیگل' اور اسرائیلی تنظیم 'بریکنگ دی سائلنس' نے بھی اپنی رپورٹس میں اسی طرح کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق، غزہ میں تعینات رہنے والے متعدد فوجیوں نے دوبارہ وہاں جانے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ ان مظالم کا مزید حصہ نہیں بننا چاہتے۔
فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح جنگ بندی کے نام پر اسرائیل نے غزہ کے رقبے پر اپنا کنٹرول مزید بڑھایا ہے۔ بائیس لاکھ فلسطینیوں کو ایک محدود علاقے میں محصور کر دیا گیا ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں بھی اسی طرز پر تباہی پھیلائی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ان شواہد کو جنگی جرائم کے زمرے میں لانے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ تاہم، عالمی عدالتِ انصاف کے سامنے ان معاملات کو لے جانے میں بڑی رکاوٹیں حائل ہیں، خاص طور پر طاقتور ممالک کی جانب سے عدالت پر دباؤ اور پابندیوں کی دھمکیاں۔
فلم 'نازا' نے ان تمام دعووں کو چیلنج کیا ہے جو اسرائیلی قیادت کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ یہ دستاویزی فلم نہ صرف غزہ کے سانحات کی ایک جھلک پیش کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ کس طرح سچائی کو دبانے کے لیے ریاستی مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ گواہیاں ان ہزاروں فلسطینیوں کی آواز ہیں جو اس جنگ میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسلسل بڑھ رہا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
موجودہ صورتحال میں یہ فلم ایک اہم دستاویز کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا طاقت کے زور پر انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کو ہمیشہ کے لیے چھپایا جا سکتا ہے یا سچائی کسی نہ کسی طرح سامنے آ ہی جاتی ہے۔
غزہ میں جاری انسانی المیہ صرف ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ 'نازا' جیسی فلمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ جنگ کے دوران بھی انسانی اقدار کا تحفظ ہر حال میں ضروری ہے۔




اپنی رائے دیں