لاہور کے علاقے جنوبی چھاؤنی میں پولیس کی حراست میں موجود ایک ملزم دورانِ علاج ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ ملزم پر دھوکہ دہی اور اپنی شناخت چھپا کر خود کو سرکاری افسر ظاہر کرنے کا الزام تھا جس کے بعد اسے حراست میں لیا گیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کی شناخت عثمان کے نام سے ہوئی ہے جسے دھوکہ دہی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تھانے میں قانونی کارروائی اور ایف آئی آر کے اندراج کے دوران ملزم کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی جس پر اسے فوری طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔
ملزم کو ریسکیو 1122 کی مدد سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ طبی ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے تقریباً 50 منٹ تک ملزم کو طبی امداد فراہم کی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم کی موت حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث واقع ہوئی۔ واقعے کے بعد اعلیٰ حکام نے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے ایس ایس پی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری مکمل کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں حقائق کا تعین کیا جائے گا کہ ملزم کی موت کن حالات میں ہوئی۔
پولیس کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ ملزم کی ہلاکت کی حتمی وجوہات جاننے کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ملزم کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا تاکہ موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
پولیس حراست میں کسی بھی ملزم کی ہلاکت کے بعد معمول کے مطابق محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ لاہور پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس کیس میں ملزم پر سرکاری افسر کا روپ دھار کر شہریوں کو دھوکہ دینے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس پر اسے گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ حراست میں موجود ملزمان کی صحت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اس واقعے کے بعد تھانے کی سطح پر بھی سیکیورٹی اور طبی سہولیات کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور پولیس کی اعلیٰ قیادت تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی اس معاملے پر مزید قانونی پیش رفت کی جائے گی۔
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹروں نے بھی ملزم کی آمد اور اسے دی جانے والی طبی امداد کے حوالے سے ریکارڈ پولیس کو فراہم کر دیا ہے۔ یہ ریکارڈ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کے اہل خانہ کو بھی واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی جائے گی جبکہ تحقیقاتی عمل اپنی جگہ جاری رہے گا۔
شہر میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی جانب سے حراستی مراکز میں نگرانی کا نظام مزید بہتر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ پولیس کا عزم ہے کہ کسی بھی مشکوک موت کی صورت میں حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔




اپنی رائے دیں