بالی وڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال کے بعد اداکارہ تنوشری دتہ کی جانب سے دیے گئے ایک متنازع بیان پر ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ نانا پاٹیکر کا انتقال حال ہی میں گوا میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا تھا۔
تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر کی موت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک تلخ تبصرہ کیا جس میں انہوں نے اداکار کو شیطان قرار دیتے ہوئے ان کی موت کو شیطان کی موت سے تعبیر کیا۔ اس بیان نے بھارتی میڈیا اور سوشل حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ملہار پاٹیکر نے اس صورتحال پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ان کے والد کے خلاف لگائے گئے الزامات کا معاملہ برسوں قبل عدالتوں میں طے پا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے ان کے والد کو ان الزامات سے مکمل طور پر بری کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ تنوشری دتہ نے 2009 میں فلم 'ہارن اوکے پلیز' کی شوٹنگ کے دوران نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ یہ معاملہ 2018 میں 'می ٹو' مہم کے دوران دوبارہ سرخیوں میں آیا تھا جس کے بعد ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی۔
تاہم 2019 میں تحقیقات کے دوران ناکافی شواہد کی بنیاد پر پولیس نے کیس بند کرنے کی سفارش کی تھی۔ بعد ازاں 2025 میں ممبئی کی اندھیری مجسٹریٹ عدالت نے قانونی مدت ختم ہونے کے باعث اس فوجداری کارروائی کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا تھا۔
ملہار پاٹیکر نے تنوشری دتہ کا نام لیے بغیر کہا کہ جو معاملہ قانونی طور پر ختم ہو چکا ہے اسے اب بلاوجہ اچھالنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے معاملات کو عدالتوں میں ہی چھوڑ دینا چاہیے اور ماضی کی تلخیوں کو دہرانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
اپنے بیان میں ملہار نے مزید کہا کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے جو اب بھی اس پرانے معاملے کو موضوع بحث بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے افراد کے لیے دعا گو ہیں کہ خدا ان کی رہنمائی کرے اور ان کا بھلا کرے۔
نانا پاٹیکر نے اپنے طویل فنی کیریئر کے دوران بھارتی سنیما میں کئی یادگار کردار ادا کیے تھے۔ ان کی وفات کے بعد انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا، جس میں ان کے مداحوں اور فلمی صنعت سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اداکار کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ بہت سے لوگوں نے ان کی اداکاری کی صلاحیتوں اور ان کے منفرد انداز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
دوسری جانب تنوشری دتہ کا بیان ان کے اپنے سوشل میڈیا حلقوں میں بھی تنقید کا نشانہ بن رہا ہے، جہاں صارفین کا ماننا ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اس طرح کے الفاظ کا استعمال اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔
قانونی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ جب کسی کیس کا فیصلہ عدالت کر چکی ہو تو اس پر عوامی سطح پر الزامات کا اعادہ کرنا قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ملہار پاٹیکر کا موقف ہے کہ ان کا خاندان اب اس معاملے سے آگے بڑھ چکا ہے۔
نانا پاٹیکر نے اپنے کیریئر میں کئی ایوارڈز جیتے اور اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ ان کے بیٹے ملہار نے اپنے والد کی میراث کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والد کے کردار پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور عدالتی فیصلے نے ان کی سچائی ثابت کر دی تھی۔
اس پورے تنازع کے بعد اب عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ نجی معاملات اور عدالتی فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ملہار پاٹیکر نے اپنے والد کی آخری رسومات کے بعد خاموشی اختیار کرنے کو ہی بہتر حکمت عملی قرار دیا ہے۔





اپنی رائے دیں