بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ اپنی جماعت کی جانب سے منعقدہ ’لہرا دو ترنگا‘ ریلی میں شرکت کے لیے کناٹ پلیس جا رہے تھے۔
پولیس حکام کے مطابق ابھیجیت دیپکے کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ریلی کے مقام کی جانب گامزن تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ تھیں، جس کی وجہ سے کسی بھی قسم کے عوامی اجتماع یا ریلی کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی۔
دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی پی) سچن شرما نے اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس ایکٹ کے تحت باقاعدہ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ پولیس نے انہیں ریلی منسوخ کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ عوامی نظم و نسق برقرار رہے۔
پولیس کی جانب سے ریلی منسوخ کرنے کی اپیل کے پیچھے کئی اہم وجوہات بتائی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس ریلی سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ تھا، جبکہ تاجروں اور عام مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
عوامی تحفظ کو یقینی بنانا پولیس کی اولین ترجیح تھی، جس کے پیش نظر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ پولیس نے واضح کیا کہ شہر کے اہم کاروباری مراکز میں امن و امان برقرار رکھنا ان کی قانونی ذمہ داری ہے۔
اس کارروائی کے دوران ابھیجیت دیپکے کے ہمراہ موجود 29 سالہ آئسا لیڈر نہا بورا کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے انہیں جنتر منتر کے قریب سے حراست میں لیا، جہاں وہ ریلی کے سلسلے میں موجود تھیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کی جانب سے اس ریلی کا مقصد کیا تھا، اس حوالے سے تاحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ تاہم، پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ابھیجیت دیپکے مختلف معاملات پر خبروں میں رہے ہیں۔ ان کی جماعت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مختلف سیاسی اور سماجی موضوعات پر آواز اٹھائی جاتی رہی ہے، جس کے باعث وہ اکثر حکام کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔
دہلی پولیس نے اس معاملے پر مزید تفتیش شروع کر دی ہے اور گرفتار افراد کو قانونی ضابطے کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات کو بھی سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ہنگامے کو روکا جا سکے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کناٹ پلیس اور اس کے گردونواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔
ابھیجیت دیپکے اور ان کی ساتھی کی گرفتاری کے بعد سے سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ تاہم، پولیس کا موقف ہے کہ یہ اقدام مکمل طور پر قانونی تقاضوں کو پورا کرنے اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
مستقبل میں اس طرح کے عوامی اجتماعات کے حوالے سے پولیس نے سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ کسی بھی ریلی یا مظاہرے کے لیے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ شہر کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔
اس واقعے کے بعد سے دہلی کے حساس علاقوں میں نگرانی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے اور عوامی مقامات پر کسی بھی قسم کی افراتفری پیدا کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔




اپنی رائے دیں