مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے غلط استعمال نے دنیا بھر کی طرح شوبز انڈسٹری کے ستاروں کیلئے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ حال ہی میں بالی وڈ کی معروف اداکارہ کریتی سینن نے اپنی شناخت اور حقوق کے تحفظ کیلئے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اداکارہ نے دہلی ہائیکورٹ میں ایک اہم درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ ان کی شخصیت، نام، تصاویر اور شناخت کے دیگر پہلوؤں کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے غیر مجاز طور پر استعمال کرنے سے روکا جائے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی ڈیجیٹل نقالی تیار کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف ان کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ یہ ان کے پبلسٹی رائٹس کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دہلی ہائیکورٹ کے جسٹس پروشیندر کمار کورو نے اس معاملے پر ابتدائی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے اداکارہ کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے تمام تر متعلقہ ریکارڈ اور ثبوت آئندہ پیشی پر عدالت میں جمع کروائیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں پیش کیے گئے فیصلوں اور تحقیقی مواد کا بغور جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد اس معاملے پر ایک جامع حکم جاری کیا جائے گا۔ کیس کی مزید سماعت 29 اکتوبر کو متوقع ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی بھارتی اداکارہ نے اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہو۔ اس سے قبل بھی کئی نامور شخصیات ڈیپ فیکس اور جعلی توثیق کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر چکی ہیں۔
حال ہی میں اداکارہ اور رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے بھی اسی طرح کا ایک مقدمہ دائر کیا تھا، جس پر عدالت نے سمن جاری کیے تھے۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں عوامی شخصیات کی سیکیورٹی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد اکثر اصلی اور نقلی میں فرق کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔ اس طرح کے کیسز آنے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کے حوالے سے نئے قوانین کی ضرورت کو اجاگر کر رہے ہیں۔
کریتی سینن کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم ان تمام فنکاروں کیلئے ایک مثال بن سکتا ہے جو اے آئی کے غیر قانونی استعمال سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اداکارہ کے مداحوں اور قانونی ماہرین کی نظریں اب 29 اکتوبر کی سماعت پر مرکوز ہیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ دہلی ہائیکورٹ میں پرسنالٹی رائٹس سے متعلق تنازعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عدالتیں اب ان جدید مسائل کو حل کرنے کیلئے سخت ضابطہ اخلاق مرتب کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
اے آئی سے تیار کردہ نقالی اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے عوامی شخصیات کی شناخت کا تجارتی استحصال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ کریتی سینن کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فنکار اپنی ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں۔
اداکارہ کی قانونی ٹیم کا ماننا ہے کہ عدالت کا فیصلہ نہ صرف کریتی سینن کے حقوق کا تحفظ کرے گا بلکہ مستقبل میں دیگر فنکاروں کیلئے بھی ایک حفاظتی ڈھال ثابت ہوگا۔ اس معاملے پر شوبز حلقوں میں بھی کافی بحث جاری ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ عدالت اس کیس میں کوئی ایسا فیصلہ دے گی جس سے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی۔ فی الحال اداکارہ کی جانب سے مزید کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے اور معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔





اپنی رائے دیں