پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے 34 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں زیادہ تر کم عمر طلبا شامل ہیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور امدادی ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی۔
ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 6 سے 14 سال کی عمر کے 33 بچے اور 25 سالہ ٹیچر ثمرین بی بی شامل ہیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سکول میں تدریسی عمل جاری تھا اور بچے کلاس رومز میں موجود تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت انتہائی خستہ حال تھی اور اچانک چھت گرنے سے تین کلاس رومز ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کی کوشش کی، جس کے بعد ریسکیو حکام پہنچ گئے۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے واقعے کو سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سکول کی عمارت پر ضرورت سے زیادہ بوجھ تھا اور تعمیراتی معیار انتہائی ناقص تھا۔ پولیس نے سکول کے پرنسپل کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز فرحان احمد کے مطابق سکول ایک تنگ گلی میں واقع تھا جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریسکیو ٹیموں نے چار سے پانچ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد تمام ملبہ ہٹا کر کارروائی مکمل کی۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سکول کی عمارت میں پکا لینٹر ڈالنے کے بجائے پہلے سے تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں جو بچوں کا وزن برداشت نہ کر سکیں۔ ملبے کے نیچے دبنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 110 بتائی جا رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ گورنر نے متعلقہ حکام سے سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا سکول کی عمارت کا کبھی معائنہ کیا گیا تھا اور تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی کیوں کی گئی۔
مقامی افراد نے بتایا کہ سکول کی عمارت انتہائی تنگ گلی میں واقع ہونے کے باعث ایمبولینسوں کا داخلہ مشکل تھا۔ حادثے کے وقت ملبے کے بڑے بڑے حصے بچوں پر گرے، جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ان کی بھانجی پینسل خریدنے کے لیے سکول سے باہر نکلی تھی جس کی وجہ سے وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہی۔ اس نے بتایا کہ جیسے ہی وہ واپس سیڑھیوں پر پہنچی، چھت گر گئی اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔
ریسکیو 1122 کے ریجنل ڈائریکٹر عارف خٹک نے بتایا کہ آپریشن میں 100 اہلکاروں، 18 ایمبولینسوں اور تین ہیوی ڈیوٹی گاڑیوں نے حصہ لیا۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سکول کا پرنسپل ایجوکیشن ٹرسٹ کے تحت ادارہ چلا رہا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق عمارت کی تعمیر میں سنگین غفلت برتی گئی تھی، جس کے باعث یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حادثے والی جگہ کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ عمارت کا ڈھانچہ مزید کمزور ہو چکا ہے اور مزید نقصان کا خدشہ موجود ہے۔ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔





اپنی رائے دیں