مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 7:56
بریکنگ
پشاور: نجی سکول کی چھت گرنے سے 34 افراد جاں بحق، پرنسپل گرفتارسعودی فوجی اتحاد کا حوثی ملیشیا کے حملے ناکام بنانے کا دعویٰخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ، وفاقی حکومت کا اہم اقدامخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، پارلیمنٹ سے توثیق مکملیوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے انکارالبانیہ میں تعلیمی نظام کیخلاف طلبہ کا شدید احتجاج، درجنوں گرفتارپشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم، انکوائری کمیٹی قائمخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیخلاف احتجاجی تحریک کا محدود اثر، انٹیلی جنس رپورٹامریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہسعودی اتحادی فوج نے مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیاحکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیحکومت کا ایف بی آر کی تنظیم نو یا نئے ٹیکس ادارے کے قیام پر غورگلگت بلتستان کی وادی اشکومن: سیاحت اور قدیم روایات کا حسین امتزاج
پاکستان

حکومت کا ایف بی آر کی تنظیم نو یا نئے ٹیکس ادارے کے قیام پر غور

وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات اور ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جامع منصوبہ طلب کر لیا۔

حکومت کا ایف بی آر کی تنظیم نو یا نئے ٹیکس ادارے کے قیام پر غور

وفاقی حکومت نے قومی محاصل میں اضافے اور ٹیکس وصولی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مکمل تنظیم نو یا پھر ایک بالکل نیا ٹیکس وصولی ادارہ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ٹیکس نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ انسانی وسائل میں اصلاحات اور ادارے کی تنظیم نو کے حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کریں۔

ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال کو اس اہم ذمہ داری کا ٹاسک سونپا گیا ہے تاکہ وہ وزیراعظم کے سامنے اصلاحاتی تجاویز پیش کر سکیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں بہتری لانا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔

ایف بی آر کے ترجمان نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور اس حوالے سے مختلف خیالات پر مشاورت جاری ہے۔ تاہم انہوں نے ٹیکس وصولی کا کام کسی نجی کمپنی کے سپرد کرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

زیر غور تجاویز میں ایک 'نیشنل ٹیکس ایجنسی' کا قیام بھی شامل ہے، جس کے ذریعے ٹیکس وصولی کے عمل کو زیادہ شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔ اگر حکومت کسی نئے ادارے کے قیام کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے لیے ایف بی آر ایکٹ 2007 سمیت متعدد قوانین میں ترامیم کرنا ہوں گی۔

حکومتی سوچ کے مطابق اگر نیا ادارہ قائم کیا جاتا ہے تو موجودہ ایف بی آر کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔ جو افسران نئے ادارے میں جانے کے خواہشمند نہیں ہوں گے، انہیں موجودہ ادارے میں اپنی ریٹائرمنٹ تک خدمات انجام دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔

ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں درپیش مشکلات بھی اس غور و فکر کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق قومی ٹیکس نمبر رکھنے والے 19 ملین افراد میں سے اب تک صرف 6.9 ملین افراد نے ہی اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہیں۔

حکومت نے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بھی خصوصی اسکیمیں متعارف کرائی ہیں، جس کا مقصد لاکھوں خوردہ فروشوں کو مقررہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل انوائسنگ اور پوائنٹ آف سیل سسٹم کے ذریعے کاروباری لین دین کی نگرانی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ٹیکس معاملات میں شفافیت لانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی رسک مینجمنٹ سسٹم کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے آڈٹ اور کلیئرنس کے لیے کیسز کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جا سکے۔

ایف بی آر کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹیکس وصولیاں 9 ہزار 200 ارب روپے سے بڑھ کر 13 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے میں اضافی ٹیکسوں اور معاشی عوامل کا بھی بڑا عمل دخل رہا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھی حال ہی میں ایف بی آر کے لیے اخراجاتی پیکیج کی منظوری دی ہے، جس میں نئی گاڑیوں کی خریداری اور ادارے کی استعداد کار بڑھانے کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات ٹیکس وصولی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

حکومت کا یہ اقدام آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں اور ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے عزم کا حصہ ہے۔ اصلاحات کا حتمی خاکہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا، جس کے بعد قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

مستقبل میں ٹیکس وصولی کا نظام کیسا ہوگا، اس کا انحصار ان اصلاحاتی تجاویز پر ہے جو ایف بی آر کی جانب سے وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔ حکومت کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام اور ملکی آمدنی میں پائیدار اضافہ یقینی بنانا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں