مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:17
بریکنگ
پشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم، انکوائری کمیٹی قائمخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیخلاف احتجاجی تحریک کا محدود اثر، انٹیلی جنس رپورٹامریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہسعودی اتحادی فوج نے مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیاحکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیپاکستان اور چین کا مالیاتی تعاون بڑھانے اور مزید پانڈا بانڈز کے اجرا پر اتفاقامریکا کو مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے: ایرانی صدر مسعود پزشکیاناقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتامریکی صدر ٹرمپ کی نئی ترجمان کی تعلیمی اسناد اور قانونی اہلیت پر سوالاتتعلیمی اداروں میں بدگمانی کا خاتمہ: حسنِ ظن اور تحقیق کی اہمیتافغان حکومت کا واخان کوریڈور منصوبہ، ماہرین کی جانب سے عملی مشکلات کا اظہارامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نضال حسن کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپسسعودی اتحادی فوج نے حوثی ملیشیا کے کروز میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کی ویڈیو جاری کر دی
پاکستان

وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی تقرری کیخلاف درخواست نمٹا دی

عدالت نے قرار دیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی تقرری کیخلاف درخواست نمٹا دی

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تقرری کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران سنایا گیا۔

درخواست گزار شیر افضل مروت کی جانب سے سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں اس درخواست پر مزید کارروائی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز نہیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ معاملہ غیر مؤثر ہو گیا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس باقر نجفی نے بھی قانونی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ دو الگ الگ قانونی معاملات ہیں۔ عدالت نے ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست کو نمٹانے کا فیصلہ کیا۔

درخواست گزار شیر افضل مروت نے عدالت کے روبرو استدعا کی کہ وہ صوبے میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی کو بھی چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم عدالت نے اس پر واضح قانونی موقف اختیار کیا۔

چیف جسٹس نے شیر افضل مروت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مستقبل میں ایمرجنسی ختم ہوتی ہے اور وزیراعلیٰ کا عہدہ بحال ہوتا ہے تو وہ اس حوالے سے نئی درخواست دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

عدالتی کارروائی کے دوران سہیل آفریدی کی تقرری کے پس منظر اور سیاسی صورتحال پر بھی مختصر گفتگو ہوئی۔ عدالت نے قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کیس کو مزید زیر التوا رکھنے سے گریز کیا۔

یاد رہے کہ حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد خیبرپختونخوا میں انتظامی امور کے حوالے سے مختلف قانونی چیلنجز سامنے آئے تھے۔ وفاقی آئینی عدالت نے ان تمام معاملات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ جاری کیا ہے۔

عدالت کا یہ فیصلہ صوبائی سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت نے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے درخواست کو نمٹانے کا درست فیصلہ کیا ہے۔

سہیل آفریدی کی تقرری کا معاملہ کافی عرصے سے زیر بحث تھا، تاہم اب گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا ہے۔

شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں کئی اہم قانونی نکات اٹھائے گئے تھے۔ عدالت نے سماعت کے دوران تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا اور پھر اپنا حتمی فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے سے اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ ایمرجنسی کے دوران اس مخصوص تقرری پر کوئی قانونی بحث نہیں ہو سکتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کسی بھی قسم کی سیاسی بحث سے گریز کرتے ہوئے صرف آئینی اور قانونی نکات پر توجہ مرکوز رکھی۔ یہ فیصلہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے اور اس کے بعد اب اس معاملے پر مزید کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں