افغانستان میں موجودہ حکام نے حال ہی میں واخان کوریڈور کے علاقے میں ایک نئی سڑک کا افتتاح کیا ہے، جس کا مقصد چین کے ساتھ براہ راست زمینی رابطے کو بحال کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین نے اس منصوبے کی عملی افادیت پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ منصوبہ زمینی حقائق کے پیش نظر تجارتی سرگرمیوں کے لیے انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ واخان کا علاقہ انتہائی بلند پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے، جہاں موسمی حالات سال کے بیشتر حصے میں آمدورفت کے لیے سازگار نہیں ہوتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں چار ہزار آٹھ سو میٹر کی بلندی پر واقع درہ سال میں صرف تین ماہ کے لیے ہی گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل ہوتا ہے۔ باقی نو ماہ شدید برف باری اور موسم کی خرابی کے باعث یہ راستہ بند رہتا ہے۔
اس جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے اس راستے کو مستقل تجارتی شاہراہ کے طور پر استعمال کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق، اتنے مختصر عرصے کے لیے روڈ کا استعمال کسی بھی بڑے پیمانے کی معاشی سرگرمی کے لیے ناکافی ہے۔
افغان معیشت کی موجودہ محدود حیثیت بھی اس منصوبے کی کامیابی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ چین کے لیے اس راستے کی تجارتی اہمیت تاحال نہ ہونے کے برابر سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ چین کے پاس پہلے سے ہی دیگر ممالک کے ساتھ بہتر اور فعال تجارتی راستے موجود ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان حکام کا یہ اقدام عملی تجارتی رابطے کے بجائے ایک علامتی حیثیت کا حامل معلوم ہوتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے چین کے ساتھ تعلقات کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن معاشی فوائد محدود ہیں۔
سیکیورٹی کے حوالے سے بھی ماہرین نے اہم خدشات کا اظہار کیا ہے۔ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ سرحد کھولنے کے کسی بھی ممکنہ معاشی فائدے سے کہیں زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے، جو چین کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث ہے۔
چین کی جانب سے اس منصوبے پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ چینی ماہرین کا ماننا ہے کہ سرحد کے جلد اور مکمل طور پر کھلنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، کیونکہ سیکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کا حل فی الحال دکھائی نہیں دیتا۔
واخان کوریڈور کا یہ علاقہ تاریخی طور پر ایک اہم جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے، لیکن جدید دور میں یہاں سڑک کی تعمیر اور اسے بین الاقوامی تجارتی معیار کے مطابق چلانا ایک انتہائی مہنگا اور مشکل ترین کام ہے۔
افغان حکام کی جانب سے اس منصوبے کو اپنی معاشی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا تھا، تاہم بین الاقوامی سطح پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، بنیادی ڈھانچے کی کمی اس منصوبے کو ناکام بنا سکتی ہے۔
مستقبل میں اس راستے کی فعالیت کا انحصار مکمل طور پر سیکیورٹی کی صورتحال اور چین کی جانب سے سرمایہ کاری کے فیصلوں پر ہوگا۔ فی الحال، یہ منصوبہ صرف ایک محدود اور علامتی اقدام تک ہی محدود دکھائی دیتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ سڑک کبھی بین الاقوامی تجارت کا مرکزی راستہ بن سکے گی۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ جب تک بنیادی سیکیورٹی خدشات دور نہیں ہوتے، اس راستے کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
مجموعی طور پر، واخان روڈ کا منصوبہ اپنی جغرافیائی اور سیاسی پیچیدگیوں کی وجہ سے ایک طویل المدتی چیلنج بنا ہوا ہے۔ افغان حکام کو اس منصوبے کو فعال کرنے کے لیے نہ صرف سیکیورٹی بلکہ تکنیکی اور موسمی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔





اپنی رائے دیں