پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے قومی سلامتی کے امور پر ایک متفقہ اور جامع حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ ملک کے ان حصوں میں عسکریت پسندی کے واقعات نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ معاشی اور سیاسی استحکام کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی بنیادی شرط ہے۔ سیکیورٹی اداروں اور سیاسی قیادت کو ایک ایسے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس میں کسی قسم کی خلیج نہ ہو تاکہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔
اس تناظر میں اپیکس کمیٹیوں کا ماڈل ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر فیصلے کر سکیں۔ ہنگامی بنیادوں پر بلائے گئے اجلاسوں کے ذریعے ان حساس علاقوں کی صورتحال پر ان کیمرہ بریفنگ اور متفقہ پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیاں یا عدم تعاون کے تاثر کو ختم کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ قومی مفاد میں تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ کریں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کمزوری نہ رہے۔
عوامی حمایت کا حصول بھی اس جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مقامی آبادی کے سماجی مسائل کو حل کرنا اور انہیں اعتماد میں لینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ جب تک عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط نہیں ہوگا، عسکریت پسندی کے خلاف کامیابی کا حصول مشکل رہے گا۔
ملک کے اندرونی سیاسی ڈیڈ لاک اور محاذ آرائی کی سیاست بھی سیکیورٹی معاملات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر کسی بھی بڑی سیکیورٹی پالیسی کو کامیابی سے نافذ کرنا ممکن نہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ کے فورم پر اکٹھا ہو کر دہشت گردی کے خلاف ایک قومی بیانیہ تشکیل دینا چاہیے۔
بیرونی عوامل بھی پاکستان کی داخلی سلامتی کیلئے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ پڑوسی ممالک کی جانب سے پراکسی وار اور کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سفارتی محاذ پر دو ٹوک موقف اپنانا ناگزیر ہے۔
افغانستان کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات نہ ہونا ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کو اپنی سیکیورٹی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اور علاقائی سطح پر درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے نئی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔
پارلیمانی مباحث کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہی واحد راستہ ہے۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کی بنیاد پر صوبے میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ لازمی ہے تو دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے۔
دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ریاست، حکومت اور عوام کا ایک پیج پر ہونا ہی واحد حل ہے۔ داخلی سیاست میں تقسیم اور تناؤ کو ختم کر کے ہی ملک کو امن کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اس جنگ میں سیاسی قیادت کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب تک سیاسی قیادت یکسو نہیں ہوگی، سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں مکمل ثمر آور نہیں ہو سکتیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کرے۔ اس منصوبے میں مقامی لوگوں کی شمولیت اور ان کے تحفظات کا ازالہ کرنا شامل ہونا چاہیے تاکہ دہشت گردوں کو مقامی سطح پر کوئی پناہ گاہ نہ مل سکے۔
آخر میں، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کا تعلق براہ راست سیاسی اور معاشی کمزوریوں سے ہے۔ جب تک ملک میں معاشی استحکام اور سیاسی ہم آہنگی نہیں آئے گی، تب تک عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں حتمی کامیابی کا حصول ایک چیلنج رہے گا۔





اپنی رائے دیں