مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 8:56
بریکنگ
ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاریبحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتاسوات: سیدو شریف ہسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب معطل، پاکستان چھوڑنے کا حکمسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے میزائل حملے ناکام، ریاض اور ظہران میں نقصاناتاسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت دینے کی کوشش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلاپاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہآسٹریلیا: چمگادڑوں کے حملوں میں تشویشناک اضافہ، جان لیوا وائرس کا خدشہلاہور میں فضائی آلودگی کی شرح میں اضافہ، بارش کا امکانترکی اور آذربائیجان کے دیرینہ تعلقات میں سفارتی و سیاسی اختلافات کی نئی بحثعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہکراچی میں پولیس کے ایکشن، مختلف مقابلوں کے دوران 3 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتارپاکستان کا دوٹوک مؤقف: افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہےدہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہےبلاول بھٹو کا فیصل کریم کنڈی کو پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر جانے کا حکمتماشہ 5 کی رنر اپ اسرا عائشہ کا اپنے ساتھی امیدواروں کے رویے پر ردعملخیبر پختونخوا میں امن و امان اور سیاسی استحکام کا چیلنجچیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نجی دورے پر انگلینڈ روانہ ہوں گےمانسہرہ: غیرت کے نام پر دوہرا قتل، مقتولین کے بھائی گرفتار
پاکستان

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہے

ملک میں امن و امان کی بحالی کیلئے سیاسی تقسیم ختم کر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہوگا، ماہرین۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہے

پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے قومی سلامتی کے امور پر ایک متفقہ اور جامع حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ ملک کے ان حصوں میں عسکریت پسندی کے واقعات نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ معاشی اور سیاسی استحکام کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی بنیادی شرط ہے۔ سیکیورٹی اداروں اور سیاسی قیادت کو ایک ایسے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس میں کسی قسم کی خلیج نہ ہو تاکہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

اس تناظر میں اپیکس کمیٹیوں کا ماڈل ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر فیصلے کر سکیں۔ ہنگامی بنیادوں پر بلائے گئے اجلاسوں کے ذریعے ان حساس علاقوں کی صورتحال پر ان کیمرہ بریفنگ اور متفقہ پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیاں یا عدم تعاون کے تاثر کو ختم کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ قومی مفاد میں تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ کریں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کمزوری نہ رہے۔

عوامی حمایت کا حصول بھی اس جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مقامی آبادی کے سماجی مسائل کو حل کرنا اور انہیں اعتماد میں لینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ جب تک عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط نہیں ہوگا، عسکریت پسندی کے خلاف کامیابی کا حصول مشکل رہے گا۔

ملک کے اندرونی سیاسی ڈیڈ لاک اور محاذ آرائی کی سیاست بھی سیکیورٹی معاملات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر کسی بھی بڑی سیکیورٹی پالیسی کو کامیابی سے نافذ کرنا ممکن نہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ کے فورم پر اکٹھا ہو کر دہشت گردی کے خلاف ایک قومی بیانیہ تشکیل دینا چاہیے۔

بیرونی عوامل بھی پاکستان کی داخلی سلامتی کیلئے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ پڑوسی ممالک کی جانب سے پراکسی وار اور کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سفارتی محاذ پر دو ٹوک موقف اپنانا ناگزیر ہے۔

افغانستان کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات نہ ہونا ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کو اپنی سیکیورٹی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اور علاقائی سطح پر درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے نئی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔

پارلیمانی مباحث کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہی واحد راستہ ہے۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کی بنیاد پر صوبے میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ لازمی ہے تو دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ریاست، حکومت اور عوام کا ایک پیج پر ہونا ہی واحد حل ہے۔ داخلی سیاست میں تقسیم اور تناؤ کو ختم کر کے ہی ملک کو امن کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اس جنگ میں سیاسی قیادت کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب تک سیاسی قیادت یکسو نہیں ہوگی، سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں مکمل ثمر آور نہیں ہو سکتیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کرے۔ اس منصوبے میں مقامی لوگوں کی شمولیت اور ان کے تحفظات کا ازالہ کرنا شامل ہونا چاہیے تاکہ دہشت گردوں کو مقامی سطح پر کوئی پناہ گاہ نہ مل سکے۔

آخر میں، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کا تعلق براہ راست سیاسی اور معاشی کمزوریوں سے ہے۔ جب تک ملک میں معاشی استحکام اور سیاسی ہم آہنگی نہیں آئے گی، تب تک عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں حتمی کامیابی کا حصول ایک چیلنج رہے گا۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں